جینوا :جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جو نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہو گا
جنیوا: پاکستان نے ایک با ر پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح کیاہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جو نہ تو کبھی بھارت کا حصہ تھا ،نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سراوانی نے سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں کہاکہ جموں وکشمیر سے متعلق یہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کا بھی یہی موقف ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت خوداس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے کر گیاتھا اوروہاں اس نے تسلیم کیاکہ کشمیریوںک و اقوامِ متحدہ کی زیرنگرانی رائے شماری کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔تاہم پاکستانی مندوب نے کہاکہ تقریبا آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت نے اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کیا ہے ۔ اس کے برعکس بھارت نے جموں وکشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں قابض فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور وہ کشمیریوں کی بنیادی آزادیوں کو کچلنے، آزاد آوازوں کو خاموش کروانے اور مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی ہرممکن کوشش کر رہا ہے ۔پاکستانی مندوب نے واضح کیاکہ بھار ت دہشت گردی سے متعلق بے بنیاد الزامات کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہا ہے جبکہ وہ خود سرحد پار دہشتگردی کی سرپرستی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی ،کینیڈا اور شمالی امریکا سمیت مختلف ملکوں میں ریاستی سرپرستی میں قتل و غارت کی عالمی مہم اور ملک میں اقلیتوں کے خلاف وحشیانہ تشدد میںملوث ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں فتنہ الخوارج اورفتنہ ہندوستان کی سرپرستی ا ور مالی معاونت کے مستند شواہد موجود ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے بارہا پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی سرپرستی کے علاوہ بلا جواز جارحیت کا ارتکاب کیا جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع کا حق کا استعمال کرتے ہوئے ذمہ داری اور ضبط و تحمل کامظاہرہ کیا ہے اورموثر مگر نپی تلی جوابی کارروائی کی ہے، جیسا کہ رواں سال مئی میں پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کراس واقعے کی مذمت کی اور ایک آزاد اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی پیشکش بھی کی، جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔بھارتی ریاست کا یہ طرزِ عمل ایک rogue actor کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی قانون اور ضوابط کو کھلم کھلا نظرانداز کرتے ہوئے خود ہی منصف، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کرنے کا عادی ہے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے ریمارکس محض حقائق کو دانستہ طور پر مسخ کرنے اور ایک بین الاقوامی معاہدے کی غلط تشریح کے مترادف ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی شق میں یک طرفہ معطلی، ترمیم یا نام نہاد تعطل کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارتی یکطرفہ اقدامات سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہیں۔ ثالثی عدالت کے 2025کے فیصلے نے معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت اور اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی توثیق کی ہے اور پاکستان کے اس موقف کو درست قرار دیا ہے کہ تمام اختلافات کا حل معاہدے کے قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہی کیا جانا چاہیے۔پاکستانی مندوب نے بھارت پر زوردیاکہ وہ جموں وکشمیر سے اپنا غیر قانونی قبضہ ختم ، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی بند ، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اورجموں وکشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔







