پرویز شاہ نے اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کواجاگرکیا

جنیوا:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی جانب مبذول کرائی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58ویں اجلاس کے دوران ایجنڈہ آئٹم 3 پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کی اہم وجہ بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیوں، جبری نظربندیوں اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے متعدد سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی حالت زار پر کو بھی اجاگر کیاجوپبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت غیر قانونی طورپر نظربندہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کونسل پر زور دیاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کے بے دریغ استعمال اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے ہائی کمشنر کے خدشات کا نوٹس لے۔ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے بین الاقوامی قانون کے مطابق بنیادی حق خودارادیت سمیت انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے تمام فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔






