مسلمانوں کو سورج اور دریاوں کی پوجا کرنی چاہیے، آرایس ایس رہنما کی ہرزہ سرائی
نئی دہلی: بھارت میں آج اقلیتوں کا دن منایا جا رہا ہے تاہم ملک میں اقلیتوں خاص طو ر پر مسلمانوں کی اس وقت جو حالت زار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندو توا جماعت آر ایس ایس کے سینئر رہنما دتاتریہ ہوسابلے نے ریاست اترپردیش میں ایک تقریب کے دوران مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ک ہ انہیں سورج اور دریاﺅں کی پوجا کرنی چاہیے۔تقریب میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ان ہندو طریقوں کو انجام دینے سے مسلمانوں کا کچھ نہیں ہوگا اور وہ انہیں مساجد میں جانے سے نہیں روکیں گے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ہوسابلے کا یہ بیان مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس-بی جے پی کے عناد اور تعصب کا واضح عکا س ہے۔انہوں نے کہا یہ ان کا یہ بیان بھارتی کے سیکولر نظریے کے صریح منافی ہے ۔ آرایس ایس رہنما کے بیان کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھی کڑی تنقید کی ہے۔انسانی حقوق کے کی تنظیموں کے کارکنوں کا بھی کہنا کہ بھارتی آئین نے اقلیتوں کو جو مذہبی حقوق دیے ہیں وہ انھیں مکمل طور پر حاصل نہیں ہیں ، مودی حکومت میں اقلیتیں اپنے حقوق سے بری طرح سے محروم کی جا رہی ہیں۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں اقلیتی آبادی 19 اعشاریہ 30 فیصد ہے۔ جب کہ سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کی آبادی 14 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔بھارت کے آئین میں دفعہ 25 سے 28 تک تمام شہریوں کو مذہبی آزادی تفویض کی گئی ہے۔ دفعہ 25 تمام شہریوں کو اپنی پسند کے مذہب پر چلنے یا مذہب بدلنے کی گارنٹی دیتی ہے۔دستور میں بھارت کو ایک سیکولر ملک قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن ماہرین سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی اقلیتوں کو وہ مذہبی حقوق حاصل ہیں جو آئین نے انھیں دیے ہیں۔KMS-09/M







