اتراکھنڈ: مسلم خاندان کو اپنی ہی زمین پر گھر بنانے سے روک دیاگیا
اتراکھنڈ:
بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک مسلسل جاری ہے ۔ تازہ واقعے میں ایک مسلم خاندان کو مقامی ہندو وارڈ کونسلر اور اس کے ساتھیوں نے اپنے قانونی طور پر خریدے گئے پلاٹ پر گھرتعمیر کرنے سے روک دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق، عاصم انصاری نے 2020میں وارڈ نمبر 31، ایشوری الائنس کالونی میں تقریبا 150مربع گز کا رجسٹرڈ پلاٹ خریدا تھا، مگر جب انہوں نے تعمیراتی کام شروع کرنے کی کوشش کی تو کونسلر سچن منجال اور ان کے ساتھی وجے اروڑہ نے انہیں روک دیا۔3مئی کو عاصم انصاری نے مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراتے ہوئے بتایا کہ سچن منجال اور وجے اروڑہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مل کر ان کے تعمیراتی کام کو روک دیا اور دھمکی دی کہ "ہم یہاں کسی مسلمان کو گھر بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، اور کوئی مسلمان اس گلی یا محلے میں نہیں رہ سکتا۔” عاصم انصاری نے یہ بھی کہا کہ ان پر پلاٹ بیچنے کے لیے دبائو ڈالا گیا، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔پولیس اسٹیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عاصم انصاری نے کہا کہ یہ جائیداد انہوں نے برسوں کی بچت سے خریدی تھی، مگر اب انہیں اپنی زمین پر گھر بنانے کاحق نہیں دیا جا رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کونسلر سچن منجال علاقے میں فساد پھیلانے کے لیے لوگوں کے گروہ تشکیل دے رہا ہے۔اس واقعہ کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی ہے اور مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات کی جائیں اورعاصم انصاری کے آئینی اور جائیداد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔








