مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر:کشمیری مزاحمتی قیادت کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں میں تیز ی

سید صلاح الدین کی وارنٹ گرفتاری کا مقصد کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو غیر قانونی قرار دینا ہے

سرینگر: اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کو بدنام کرنے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کی بھارت کی مسلسل قانونی اور نفسیاتی مہم کے تحت بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے کشمیری رہنما سید صلاح الدین احمد کے غیر ضمانتی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع بڈگام میں این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج نے ان کے خلاف یہ وارنٹ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے”کے تحت درج ایک من گھڑت مقدمے میں جاری کئے۔ عدالت نے پولیس کو سید صلاح الدین کو گرفتار کرنے کا حکم دیاہے۔سید صلاح الدین جو 1993سے آزاد جموں و کشمیر میں مقیم ہیں، کشمیری مزاحمتی تحریک کی ایک سرکردہ شخصیت ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر ضمانتی وارنٹ کا اجراء بڑی حد تک علامتی ہے اور یہ بھارت کی وسیع تر قانونی اور نفسیاتی مہم کا حصہ ہے تاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو عدالتوں اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے ذریعے نشانہ بنا کر مجرمانہ اور غیر قانونی قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس ایسے وارنٹ جاری کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار نہیں ہے کیونکہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کررکھا ہے۔بھارتی حکام نے حالیہ برسوں میں سید صلاح الدین اور ان کے اہلخانہ سے منسلک جائیدادیں بھی ضبط کیں اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف تعزیری کارروائیاں کیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے جابرانہ قوانین، خصوصی عدالتوں اور تفتیشی ایجنسیوں پربھارت کے انحصار کی عکاسی کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button