مقبوضہ جموں و کشمیر

مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مقبوضہ جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہرے

سرینگر:بھارتی حکومت کی جانب سے دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف سرینگر اور جموں میں کانگریس پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے خدشے کا اظہار کیا کہ طویل عرصے سے جاری روزگار پروگرام کو تبدیل کرنے سے مقبوضہ علاقے کے لاکھوں دیہی باشندوں کی روزی روٹی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ نئے قانون کو صدارتی منظوری مل گئی ہے جس سے دیہی روزگار کے پچھلے فریم ورک کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔سرینگر میں مظاہرین نے اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے مولانا آزاد روڈ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس اور پیراملٹری فورسز نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مظاہرین نے بھارتی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج جاری رکھا۔پارٹی رہنمائوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی روزگار ایکٹ کی منسوخی سے معاشی طور پر کمزور طبقے ایک اہم حفاظتی ڈھال سے محروم ہو جائیں گے اور مقبوضہ علاقے کے دیہی علاقوں میں بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے پسماندہ برادریوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔اسی طرح کا احتجاج جموں میں بھی کیا گیا جہاں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں نے نئی اسکیم کے تحت دیہی روزگار اور فلاحی اقدامات کے مستقبل پر خدشات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ علاقے میں روزگار کو متاثر کرنے والی کسی بھی پالیسی کو یکطرفہ طور پر مسلط کرنے کے بجائے مقامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جانی چاہیے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دیہی آبادی کے خدشات کو دور نہیں کیا جاتا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں روزگار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button