مقبوضہ کشمیر :سیب کے کاشتکاروں کا درآمدکیے جانے والے سیب پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی پر اظہار تشویش

سری نگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیب کے کاشتکاروں نے بھارتی حکومت کی طرف سے نیوزی لینڈ سے درآمد کیے جانے والے سیب پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سیب کی مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اورکشمیری سیب مالکان کی روزی روٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین کے صدر بشیر احمد بشیر نے سیب کے مقامی کسانوں کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہر برس اپنی صنعت کے لیے نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس برس نیوزی لینڈ سے سیب درآمد کیے جا رہے ہیں جبکہ قبل ازیں ہم نے ایران، امریکہ اور دیگر ممالک سے درآمدات دیکھی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح کی درآمدات کے مجموعی اثرات مقامی کاشتکاروں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسٹم ڈیوٹی میں کمی سے درآمد شدہ سیب سستے ہو جائیں گے اور تاجر فطری طور پر انہیں ترجیح دیتے ہیں، اس سے مارکیٹ میں ہمارے سیب کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
مقبوضہ علاقے کے سیب کے کاشتکار پہلے ہی اعلی پیداواری لاگت، غیر متوقع موسم، کیڑوں کے حملوں اور سرینگر جموںشاہرہ کی بار بار بندش سے پہنچنے والے نقصانات کا شکار ہیں اور رہی سہی کسر درآمدی سیبوں کے ذریعے نکالی جا رہی ہے ۔
یاد رہے کہ وادی کشمیر کی سیب کی صنعت خطے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ باغبانوں سے لے کر ٹرانسپورٹرز تک سب کا انحصار اس موسمی پھل پر ہوتا ہے۔






