مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ڈیجیٹل ٹولز کااستعمال جرم بن گیا،وی پی این کے استعمال پر نوجوان گرفتار

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی ایک اور کارروائی کرتے ہوئے ضلع راجوری میں ایک شہری کو محض اپنے موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN)ایپلی کیشن استعمال کرنے پر گرفتار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے معمول کی چیکنگ کے دوران فون میں انسٹال ایک ممنوعہ وی پی این ایپلی کیشن ملنے پر تھنہ منڈی کے علاقے کھبلان کے رہائشی محمد قاسم کو گرفتار کیا۔ قاسم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اس کا موبائل فون قبضے میں لے لیا گیا ہے۔اس گرفتاری سے انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پرائیویسی ٹولز کے استعمال کو جرم قرار دینا مقبوضہ علاقے میں نگرانی اور سنسرشپ کی خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ذاتی ڈیٹا کی حفاظت، آن لائن پرائیویسی کو یقینی بنانے اور معلومات تک رسائی کے لیے پوری دنیا میں وی پی اینزکا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ان کے استعمال کوغیر قانونی سرگرمیوں کے ثبوت کے طورپر لیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد معلومات کے بہا ئوکو کنٹرول کرنا، شہریوں کوہراساں کرنااورفزیکل اور ڈیجیٹل دونوںجگہوں پر اختلافی آوازوں کو دبانا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موبائل ایپلیکیشنز پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی کی آڑ میں لوگوں کی روزمرہ کی زندگی میں کس طرح دخل اندازی کی جارہی ہے۔
دریں اثناء ایس ڈی پی او تھنہ منڈی پروپکر سنگھ اور ایس ایچ او انسپکٹر ہلال اظہر نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا کہ وہ سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔








