کسانوں، باغ مالکان کی جنوبی کشمیر میں زرخیز زمینوں سے ریلوے لائن گزارنے کی مخالفت
زرعی زمینوں سے ریلوے لائن گزارنے سے ہم روزی روٹی سے محروم ہوجائیں گے :متاثرین

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں شوپیاں اور پلوامہ اضلاع کے کسانوں اور باغ مالکان نے کاکہ پورہ-شوپیان کی مجوزہ ریلوے لائن کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے سے زرخیز زرعی زمین اور صدیوں پرانے سیب کے باغات تباہ ہوجائیں گے جس سے ہزاروں خاندانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریلوے حکام کی طرف سے زمین کی نشاندہی کے موقع پر بزرگوں اورخواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جو اپنے غم وغصہ اورشدیدمخالفت کا اظہارکررہے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آنسو بہاتے باغ مالکان نئے نصب شدہ لوہے کے کھمبوں کے پاس کھڑے ہیں اورخدشات کا اظہارکررہے ہیں کہ مجوزہ ریلوے لائن سے ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ختم ہوجائے گا۔مجوزہ ریل لائن ضلع پلوامہ کے علاقے کاکہ پورہ اور شوپیاں کے درمیان 30سے زائد دیہاتوں سے گزرے گی ، یہ علاقہ سیب کے باغات کے لیے مشہور ہے جن سے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ ہے ۔ ریلوے حکام نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران زرعی زمین میں لوہے کے کھمبے لگا کر زمین کی نشاندہی تیز کردی ہے۔مقامی کسانوں نے بتایا کہ یہ باغات محض جائیداد نہیں بلکہ نسلوں کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ شوپیاں کے ایک باغ مالک نذیر احمد نے بتایا کہ ان کی زمین پر قبضہ انہیں بے سہارا کر دے گا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہااگر ریلوے میرے باغ کو کاٹ دیتی ہے، تو میرے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔ یہ زمین میرے خاندان کا پیٹ پالتی ہے۔کنس گائوں سے تعلق رکھنے والے ایک اور کسان فاروق احمد نے بتایا کہ اس کی تقریبا نو کنال زرخیز زمین کو اس منصوبے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔ انہوں نے باغات سے ریلوے لائن گزارنے کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیابنجر زمین سے متبادل روٹ کے لئے نیا سروے کرایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس سرزمین پر رہتے ہیں، ترقی کا مطلب ہماری تباہی نہیں ہو سکتی۔
دریں اثناء مقامی لوگ جن میں خواتین اور بزرگ شامل تھے، سروے ٹیموں کو روکنے کے لئے کھیتوں میں جمع ہوئے اوراحتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ترقی کے مخالف نہیں لیکن ان منصوبوں کو مسترد کرتے ہیں جن سے ان کا معاشی اور غذائی تحفظ تباہ ہو۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے زرخیز زرعی اراضی حاصل کرنا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ایک وسیع رحجان کی عکاسی کرتا ہے جس میں قابض حکام ایسے فیصلوں کے معاشی اور سماجی اثرات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردارکیا کہ بغیر مشاورت کے زمین کا حصول جاری رکھنے سے عوامی غم وغصہ اوران میںاحساس محرومی مزید بڑھے گا ۔احتجاج کرنے والے کسانوں نے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ باغات اور کھیت کی زمینوں کے تحفظ کے لیے جو جنوبی کشمیر کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ریلوے پروجیکٹ پر نظرثانی کی جائے۔






