مقبوضہ جموں وکشمیر میں کسانوں کا مجوزہ ریلوے لائن کے خلاف احتجاج
بھارتی فورسز نے جموں میں دو نوجوان گرفتار کر لیے
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کسانوں نے کاکہ پورہ ۔شوپیان کی مجوزہ ریلوے لائن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنے ذریعہ معاش کے لئے تباہ کن قراردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احتجاج کرنے والے کسانوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ منصوبے سے زرخیز زرعی زمین اور سیب کے صدیوں پرانے باغات تباہ ہو جائیں گے جس سے ہزاروں خاندانوں کے ذریعہ معاش کو خطرہ ہو گا۔ ریلوے حکام کی طرف سے زمین کی نشاندہی کے خلاف بزرگوں اور خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کی۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آنسو بہاتے باغ مالکان نئے نصب شدہ لوہے کے کھمبوں کے ساتھ کھڑے ہیں اورخدشات کا اظہارکررہے ہیںکہ اس منصوبے سے ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تباہ ہوجائے گا۔ مجوزہ ریلوے لائن 30سے زائد دیہات سے گزرے گی اور یہ علاقہ سیب کی کاشت کے لیے مشہور ہے۔
جموں میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ملازمین نے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کو حل کرنے میں حکام کی ناکامی کے خلاف احتجاج کیا۔ ملازمین کے رہنمائوں راجیش جموال اور محمد مشتاق نے خبردار کیا کہ اگر ریگولرائزیشن اور ترقیوں سمیت ان کے مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تووہ احتجاج جاری رہے گا۔
دریں اثناء بھارتی فورسز نے ضلع جموں کے علاقے ستواری سے دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیاہے جبکہ بھارتی فوج کی 27آسام رائفلز نے شمالی کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس طرح کی کارروائیاں ایک معمول چکی ہیں اور ان کا مقصد مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنا ہے۔
جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے دلی ہائی کورٹ کی طرف سے پارٹی چیئرمین شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی رہنمائوں کی نظر بندی کو طول اور انہیںسزا دینے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔ ڈی ایف پی نے کہا کہ کسی فیصلے کے بغیر طویل نظربندی کشمیری رہنمائوں کو ان کے سیاسی نظریے کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا ہتھیار ہے۔ بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ عدالتیں غیر جانبدارانہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے بھارتی ریاستی بیانیے کی سہولت کار بنی ہوئی ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک مسلمان مزدور کی لنچنگ اور اتراکھنڈ میں ایک قبائلی طالب علم کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ”لنچستان”میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہجومی تشددمیں معصوم لوگوں کو نشانہ بنا یا جارہا ہے۔
ادھر بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے علاقے کسولی میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک اور کشمیری شال فروش پر حملہ کیا ، اسے گالیاں اور دھمکیاں دیں اور لوٹ مارکا نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے کشمیری تاجروں سے کہاکہ وہ پاکستان چلے جائیں۔ یہ رواں سال ریاست میں اس طرح کا 17 ویں واقعہ ہے جس میں کشمیری تاجروں کو نشانہ بنایا گیاہے۔








