اترا کھنڈ: ہندو توا رہنما کی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی
کارکنوں کو داڑھی اور ٹوپی پہنے کسی بھی شخص کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینے کی ہدایت

دہرادون:بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اتراکھنڈ ریاست میں ایک ہند و توا رہنما نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے جنونی کارکنوں پر زور دیاہے کہ وہ ڈاڑھی اور ٹوپی پہنے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی اسے ”دہشت گرد“ سمجھتے ہوئے اسکی اطلاع پولیس کو دیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھوپیش جوشی نامی رہنما کو ایک وائرل ویڈ یو میں ہندو تواغنڈوںپر یہ زور دیتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ” جب بھی وہ داڑھی اور سر پر ٹوپی پہنے کسی شخص کو دیکھیں تو فوری پولیس سے رابطہ کریں“۔ اسکے اس شرانگیز بیان پر علاقے کے مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ویڈیو دہرادون کے ایک محلے کے ایک واقعے کے بعد کی ہے جہاں کے رہائشیوں نے داڑھی اور ٹوپی پہنے ایک مسلمان شخص کو دیکھ کر پولیس کو بلایا اور دعویٰ کیا کہ انکے علاقے میں ایک دہشت گرد موجود ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی اور اس شخص کو پوچھ گچھ کے لیے لے گئی۔گرفتار کیا جانے والا شخص پولیس کے سامنے دہائی دیتا رہا کہ وہ بے قصور ہے اور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن پولیس نے اسکی ایک نہ سنی ۔






