بھارت نے دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں، فیض نقشبندی
میر واعظ کی نظر بندی کی مذمت

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے سینئر رہنما سید فیض نقشبندی نے میر واعظ عمر فاروق کی ایک مرتبہ پھر گھر میں نظر بندی اور نما ز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں مقبوضہ جموںوکشمیر میں بڑے پیمانے پرجاری بھارتی جبر کی عکاسی کرتی ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید فیض نقشبندی ، جو حریت آزاد کشمیرشاخ میں میر واعظ کی نمائندگی کرتے ہیں، نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے
کشمیریوں کے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی حقوق بھی ایک منظم طریقے سے سلب کر رکھے ہیں۔ سید فیض نقشبندی نے کہا کہ میر واعظ عمر فاروق نظربندیوں اور پابندیوں کے باوجود جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے خاتمے اور کشمیری عوام کی جائز امنگوں کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت کا کوئی بھی یکطرفہ اقدام اس کی قانونی اور سیاسی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری چھاپوں، تلاشی کی کارروائیوں اور بلا جواز گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوںکو طاقت کے بل پر خاموش کرنے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے لیکن وہ اپنے مذموم منصوبے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔
یاد رہے کہ بھارتی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو آج پھر سرینگر میں گھر میں نظر بند رکھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے تاریخی جامع مسجد جانے سے روک دیا







