
مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اورشاطرانہ بھارتی اقدام کے آج چھ برس مکمل ہو گئے ۔مودی حکومت نے 5اگست 2019 اور اسکے بعد جو اقدامات کیے ، ان کاواحد مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی مسلم شناخت مٹانا اور اسے مکمل طور پر ایک ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنا ہے۔ فرقہ پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر کے بارے میں بالکل اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو صہیونی ریاست اسرائیل نے فلسطین کے حوالے سے اپنا رکھی ہے ۔
5اگست 2019 کی کارروائی27اکتوبر 1947کے بعد جموں وکشمیر میں دوسری بڑی بھارتی جارحیت تھی۔کانگریس نے تقسیم برصغیر کے فارمولے کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی خواہشات کے منافی مسلم اکثریتی جموں وکشمیر پر قبضہ جما لیا تھا۔ کانگریس کی اس ننگی جارحیت کے تقریبا ً72برس بعدبھارتیہ جنتاپارٹی نے حق تلفی ، بد دیانتی اور دھوکہ دہی کا ایک اور سیاہ باب رقم کیااور کشمیریوں سے انکی شناخت چھیننے اور انہیں اپنے ہی وطن میں بے وطن کرنے کا راستہ ہموار کیا۔یقینا 27اکتوبر کی طرح 5اگست بھی کشمیریوں کیلئے ایک سیاہ ترین دن ہے۔ 370 اور35اے خصوصی دفعات تھیں جنکے تحت ریاست ریاست جموں و کشمیر کو ایک جداگانہ حیثیت حاصل تھی۔ان دفعات کے تحت کوئی بھی بھارتی شہری ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائداد نہیں خرید سکتاتھا اور نہ ہی یہاں سرکاری ملازمت حاصل کر سکتا تھا۔ یہ بات صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر سرکاری و نجی کمپنیاں بھی کشمیر میں جائداد حاصل نہیں کر سکتی تھیں ۔ مذکورہ دفعات کے تحت جموں کشمیر کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے ، صنعتی ودیگر کارخانے لگانے یا ڈیم وغیرہ بنانے کے لیے یہاں کی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لہذا بی جے پی نے مقبوضہ علاقے کو مکمل طورپر ہندو توا کے رنگ میں رنگنے کیلئے یہ دفعات روند ڈالیں۔ اب کشمیری مسلمانوں کا وجود، انکی شناخت اورتہذب وتمدن شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ مودی حکومت اپنے مذموم ایجنڈے کو انتہائی سرعت کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ اس نے گزشتہ 6برس کے دوران جو کشمیر دشمن اقدامات کیے وہ مختصراًکچھ یوں ہیں۔
31اکتوبر 2019کو مقبوضہ جموں وکشمیر کو باقاعدہ طور پر دو یونین ٹیری ٹریز(دلی کے زیر انتظام علاقوں) جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا۔ اسکے ساتھ ہی سرینگر کے سول سیکرٹریٹ پر لہرانے والا جموں وکشمیر کا جھڈا لپیٹ کر اسکی جگہ بھارت کا ترنگا لہرا دیا گیا ۔ اسی روز مقبوضہ کشمیر میں قائم تین ریڈیو سٹیشنوں کے نام کے ساتھ شامل کشمیر کا لفط ہٹا کر آل انڈیا ریڈیو سرینگر، جموں اور لیہ کا لاحقہ لگا دیا گیا۔ پہلے ان تینوں سٹیشنوںکا نام ریڈیو کشمیر سرینگر ، جموں اور لیہہ تھا۔قابض بھارتی انتظامیہ نے 24اکتوبر2019کو مقبوضہ کشمیر میں قائم سرکاری انسانی حقوق کمیشن،انفارمیشن کمیشن، تنازعات صارفین کا ازالہ کمیشن ، بجلی ریگولیٹری کمیشن ، خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قائم کمیشن ، معذوروں سے متعلق کمیشن اور ریاستی احتساب کمیشن ختم کرنے کا حکمنامہ جار ی کیا۔ اسی برس3نومبر کو بھارتی وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں نئے بھارتی سیاسی نقشے کی تفصیلات جاری کی گئیں ۔ اس نئے نقشے میں آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان بھی مقبوضہ جموں وکشمیر اور لداخ کا حصہ دکھائے گئے ۔جلد ہی مقبوضہ علاقے میں موجود اہم مقامات اور عمارات کے نام تبدیل کر کے انہیں مختلف ہندو شخصیات کے ناموں سے منسوب کیا گیا۔ سرینگر کرکٹ سٹیڈیم کا نام بدل کر اسے بھارت کے پہلے نائب وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ یہ سٹیڈیم پہلے شیخ عبداللہ کے نام کی مناسبت سے شیر کشمیر سٹیڈیم کہلاتا تھا۔شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر کا نام تبدیل کر کے صرف کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر رکھا گیا۔ شیخ عبداللہ کے یوم پیدائش اور 13جولائی کی”یوم شہدائے کشمیر“کی تعطیلات بھی ختم کردی گئیں ۔ شیخ عبداللہ جموں و کشمیر پر قبضے میں بھارت کا ایک اہم معاون و مدد گار تھالہذا قابل غور بات یہ ہے کہ جب اکھنڈ بھارت کے حامیوں کو اپنے اس خیر خواہ کا نام برداشت نہیں تو آزاد ی مانگنے والے اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے ایک عام کشمیر ی کے ساتھ انکا رویہ کس قدر خوفناک اور ظالمانہ ہوگا۔
مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیرکے ہرشعبے میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کیلئے مارچ2020 میں 37بھارتی قوانین کا دائرہ کار مقبوضہ علاقے تک بڑھادیاجن میں وکلا ءایکٹ 1961،سروسز ایکٹ1951، قدیم یادگاریں اور آثار قدیمہ ایکٹ1958، ثالثی اور مفادات کا ایکٹ1996،مردم شماری ایکٹ1948، مرکزی سامان اور خدمات ٹیکس ایکٹ2017 ، ضابطہ اخلاق 1908،ضابطہ فوجداری1973، شماریات کا مجموعہ2008، کمیشن آف انکوائری ایکٹ1952، فیملی کورٹس ایکٹ1984 ، گورئمنٹ سیکورٹریز ایکٹ2006، ہائی کورٹ ججز ایکٹ1954،انکم ٹیکس ایکٹ1961، ہندوستانی جنگل ایکٹ1927، قومی کوآپریٹیو ڈویلپمنٹ کارپوریشن ایکٹ1962، سرکاری زبان ایکٹ1963، پریس کونسل ایکٹ 1978، پبلک ڈیبٹ ایکٹ1944,، پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس ایکٹ1867، ریلوے پراپرٹی ایکٹ1966، رئیل اسٹیٹ ایکٹ2016، نمائندگی عوام ایکٹ 1950، حصول زمین ، بحالی اور آبادکاری ایکٹ2013، ٹیکسٹائل کمیٹی ایکٹ1963کے علاوہ دیگرقوانین و ضوابط شامل ہیں۔بھارتی حکومت نے یکم اپریل2020 کومقبوضہ کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون فافذ کیا جس کے تحت ایسا شخص جوجموں وکشمیر میں 15برس تک رہائش پذیررہا ہو یا علاقے میں سات برس تک تعلیم حاصل کی ہو اور یہاں کے کسی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم رہ کر دسویں یا بارھویں جماعت کے امتحانات پاس کیے ہوں ، یہاں کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا اہل ہوگا۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب تک ساڑے 7 لاکھ سے زائد بھارتی ہندوﺅں کو کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیئے گئے ہیں۔ قابض حکام نے 2020ہی میں مقبوضہ علاقے میں ایک نئی تعمیراتی پالیسی بھی نافذ کی جس کے تحت کسی بھی علاقے کو ” اسٹریٹجک ‘ نوعیت کا علاقہ قرار دیا جاسکتا ہے جہاں بھارتی فوج بلا رکاوٹ تعمیرات کھڑی کرنے کے علاوہ دیگر سرگرمیاں کر سکتی ہے اور اس کے لیے اسے انتظامیہ سے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ۔ مودی حکومت نے جون2020 میں مقبوضہ علاقے میں ایک نئی میڈیا لیسی نافذ کی جس کے تحت قابض انتظامیہ کو پر نٹ اور الیکڑانک میڈیا کے مواد کی جانچ پڑتا ل کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت انتظامیہ خود اس بات کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ کونسا صحافتی مواد درست ہے اور کونسا درست نہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بھی بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی ایسا موا د جس میں بھارتی جبر و ستم کی نشاندہی کی گئی اسے شائع یا نشر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ برس 18 ستمبر سے یکم اکتوبر تک 3 مراحل میں ہونے والے نام نہاد اسمبلی انتخابات سے قبل مئی 2022 میں علاقے میں نئی انتخابی حد بندی عمل میں لائی جس کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیرکے مسلم اکثریتی وادی کشمیر کیلئے محض 1جبکہ ہندو اکثریتی جموں کیلئے 6 نشستوں کا اضافہ کیا گیا۔ وادی کشمیرکیلئے اسمبلی نشستیں 46 سے بڑھا کر 47 جبکہ جموں خطے میں 37 سے بڑھا کر 43 کردی گئیں۔ہندو اکثریتی جموں کے لیے چھ اضافی نشستوں کا اضافہ صرف اور صرف وادی کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو بے اختیار کرنے کے لیے کیا گیا۔ ہندو توا بی جے پی حکومت نے نام نہاد انتخابات سے قبل گزشہ برس جولائی میں جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019میں ترمیم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دیے ۔اس ترمیم کے تحت آئی اے ایس،آئی پی ایس، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سمیت آل انڈیا سروس افسران کی تقرری اور تبادلوں اور جوڈیشل افسران کی تعیناتیوں کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات میں اضافہ کیاگیا ہے۔گو کہ اس وقت مقبوضہ علاقے میں نیشنل کانفرنس کی حکومت ہے اور کشمیریوں کو بھارتی دلدل میں ڈبونے والے شیخ عبداللہ کا پوتا عمر عبداللہ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں تاہم وہ بے دست وپا ہیں اور ان کی حیثیت ایک نمائشی وزیر اعلیٰ سے زیادہ کچھ نہیں۔تمام کے تمام اختیارات مودی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پاس ہیں اور وزیر اعلیٰ ان کی اجازت کے بغیر پر تک نہیں مار سکتا۔ عمر عبداللہ کو اپنی بے بسی او ر بے چارگی کا خوب اندازہ گزشتہ ماہ تیرہ جولائی کو”یوم شہدائے کشمیر“ کے موقع پر اس وقت ہوا جب سنہا نے انہیں سرینگر میں قیدکر کے فاتحہ خوانی کیلئے مزار شہداءنقشبند صاحب جانے سے روک دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خود حا ل ہی میں اعتراف کیا ہے کہ اگست 2019میں خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں8سوسے زائد بھارتی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بات کہہ کر بے شرمی اور ڈھٹائی کی ساری حدیں پھلانگ دیں کہ بھارتی قوانین کے نفاذ نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا ہے ۔ گورنر صاحب شاہد ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کیونکہ جہاں ہزاروں کشمیری برسہا برس سے جیلوں او ر عقوبت خانون میں بند ہیں وہاں ایک آدھ دن کیلئے ہی سہی وزیر اعلیٰ کوبھی تو قید کردیا گیا، انصاف اور مساوات کی اس سے بڑی مثال بھلا اور کیا ہو گی، کسی کو چاپلوسی اور مکاری سیکھنی ہو تو ضرور بھارتی رہنماﺅں سے سیکھے۔
بھارتی فورسز نے گزشتہ چھ برس میں کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے اس کی مختصر جھلک خبر رساں ادارے ”کشمیر میڈیاسروس “ کی طرف سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار میں دیکھی جاسکتی ہے۔
بھارتی فورسز نے اگست 2019سے اب تک 1ہزار 19کشمیری شہید جبکہ2ہزار 5سو22افراد زخمی کیے ہیں۔اس عرصے کے دوران28 ہزار 5 سو61شہری گرفتار اور1ہزار 1سو63مکان اور عمارتیں نذر آتش اور تباہ کی گئیں،بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 76خواتین بیوہ جبکہ 205بچے یتیم ہوئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی ٰ بنانے او ر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے گزشتہ چھ برس کے دوران کشمیری مسلمانوں کے گھروں ، زمینوں سمیت ساڑے چار سو سے زائد املاک ضبط اور مسمار کر دیں ۔ نریندر مودی نے 2014میں برسر اقتدار آنے کے فوراًبعد کشمیری مسلمان سرکاری ملازمین کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا تھا ۔ اعداد وشمار کے مطابق2015سے اب تک5سو سے زائد کشمیری ملازمین کو برطرف کیا جاچکا ہے۔
بھارت کشمیرکے حوالے سے وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کی ایک بھیانک تاریخ رکھتا ہے۔ اگست 2019کے شاطرانہ اقدام سے اسکے استعماری عزائم مزید بے نقاب ہو چکے ہیں، خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کارروائی سے کشمیری عوام میں بھارت کے تئیں نفرت میں اضافہ ہوا ۔ بھارت جموں وکشمیر کے بارے میں ایک انتہائی بے بنیاد اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، وہ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ اگست 2019کے بعد علاقے میں امن قائم ہوا ہے اور کشمیری اسکے ساتھ خوش ہیں،وہ بندوق کی نوک اور کالے قوانین کے بل پر قائم کی جانے والی خاموشی کو امن کا نام دے رہا ہے ۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ بھارت اپنے جارحانہ اقدامات سے نہ تو کشمیریوں کو آزادی اور حق خودارا دیت کی فراہمی کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹا سکا اور نہ ہی کشمیرکے بارے میں اپنا جھوٹا بیانیہ عالمی سطح پر منوا سکا ہے ۔مودی حکومت نے اوڑی ، پلوامہ اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشن بھی کر کے دیکھ لیا ، وہ نہ تو کشمیریوں کی جائز تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑ نے میں کامیاب ہوئی اور نہ ہی پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنا سکی۔ دنیا اب بھی جموں وکشمیرکو ایک متنازعہ خطہ مانتی ہے اور کشمیریوں کے حق خود ار ادیت کو تسلیم کرتی ہے۔ لہذا اگر مودی حکومت کے حواس پاکستان کیطرف سے رواں برس 10مئی کو لگنے والے بھاری بھر کم تھپڑسے اب بحال ہوئے ہوں تو اسے چاہیے کہ صدر ٹرمپ ہی کی بات مان لے جو گزشتہ تین ماہ کے دوران درجن بھر مرتبہ کشمیر پرثالثی کی بات کر کے کشمیر پر بے بنیاد بھارتی بیانیے کی دھجیاں اڑا چکے ہیں۔







