یومِ حقِ خودارادیت: مظفرآباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیرِ اہتمام ریلی

مظفرآباد: آج یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر مظفرآباد میںکل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے زیرِ اہتمام ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریلی شہید افضل گورو چوک دومیل سے شروع ہوئی جس میں زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے کشمیر کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے لگائے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنے جائز، مسلمہ اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 5جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ نے اپنی قرارداد کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دیا، مگر بدقسمتی سے 78برس گزرنے کے باوجود عالمی ادارہ اپنے اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔مقررین نے بھارت کی جانب سے 5اگست 2019 کو کیے گئے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ370اور 35-Aکی منسوخی، ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو کمزور کرنے کی منظم سازش تھی، تاہم یہ تمام ہتھکنڈے کشمیری عوام کے حوصلے، عزم اور جدوجہد کو کمزورکرنے میں ناکام رہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ حقِ خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیری عوام کو بدترین ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ لاکھوں کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں، ہزاروں افراد کو تشدد کے ذریعے معذور بنایا گیا، سینکڑوں بچوں کو پیلٹ گنز کے ذریعے بینائی سے محروم کیا گیا، گھروں کو مسمار، جائیدادیں ضبط اور ریاست کے مسلم تشخص کو مٹانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ریلی کے شرکا ء اور مقررین نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوںکو پوراکریں اورعالمی ادارے کی قراردادوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کشمیری عوام بھی دنیا کی دیگر اقوام کی طرح آزادانہ طور پر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ریلی کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کو ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت اور بھارتی مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا ء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حقِ خودارادیت کے حصول تک پرامن، اصولی اور قانونی جدوجہد ہر سطح پر جاری رہے گی۔ریلی میں دیگر لوگوں کے علاوہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر، سیکرٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشاق احمد بٹ، ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی، ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر،چیئرپرسن خواتین ونگ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس سمعیہ ساجد ، حریت رہنما سید گلشن، سید مشتاق حسین،مشتاق الاسلام، چیئرمین تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر منیر کونشی،صدر ایپکا محمد رمضان، امیرجماعت اسلامی مظفرآباد انجینئر عبد الحمید،سید کرامت سبزواری،ایڈوکیٹ سردار رمضان،چوہدری فیروز دین،آصف مخدومی،صدر سیرت کمیٹی عتیق کیانی،نصیر میر،تنزیر اقبال،سید محمود شاہ سمیت سیاسی و سماجی شخصیات، طلبا تنظیموں، وکلا برادری، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔
ادھریوم حق خودارادیت کے موقع پر پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیرِ اہتمام بھی مظفر آباد میں عوامی ریلی نکالی گئی ۔برہان وانی شہید چوک سے نکالی گئی ریلی کی قیادت سپیکر قانون ساز اسمبلی آزاد جموںو کشمیر چوہدری لطیف اکبر، چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی ، شوکت جاوید میر ،عبدالرزاق رزاق خان ، افغانی ، عظمت حیات کشمیری ، یاسر نقوی اور دیگر نے کی۔ریلی میں خواتین ، نوجوانوں ، بزرگوں اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں کشمیری شہریوں نے شرکت کی ۔ریلی کے شرکا نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم اور فوجی قبضے کے خلاف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے 5جنوری 1949کی قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور جموںو کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کیخلاف شدید نعرہ بازی کی ۔جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے،بھارتی قابضو کشمیر ہمارا چھوڑ دو، ہم چھین کے لیں گے آزادی جیسے نعرے مسلسل گونجتے رہے۔مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے مبصر دفتر تک مارچ کیا ۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اقوامِ متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ 5جنوری کی قرارداد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بہترین روڈ میپ ہے اور کشمیری عوام اس پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔ کشمیری عوام 5 جنوری کی قرارداد پر عملدرآمد کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے موثر کردار ادا کریں۔








