بھارت

بھارتی سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں

نئی دلی:
بھارتی سپریم کورٹ نے 2020کے دلی فسادات کیس میں گرفتار جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس لیڈروں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ ملزمان اور دلی پولیس کے دلائل سننے کے بعد 10دسمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا ،جوآج سنایا گیا ہے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے مقدمے کے دیگر ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی مسلسل قید کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستین منظور کر لی۔یہ تمام ملزمان 2020میں متنازعہ قانون شہریت اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے خلاف کے نئی دلی فسادات میں اپنے مبینہ کردار کے لیے پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں قید ہیں۔ اسٹوڈنٹس لیڈروں نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون(یو اے پی اے)کے تحت درج مقدمے میں ضمانت سے انکار کے دلی ہائی کورٹ کے حکم کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ فسادات کے دوران 53افراد ہلاک اور 700سے زائد زخمی ہوئے تھے جن میں بیشترمسلمان شامل تھے ۔دلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ملزمین کی رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کالے قانون ”یو اے پی اے”کی دفعات کا حوالہ دیا ۔شرجیل امام 28جنوری 2020سے جبکہ عمر خالد 13ستمبر 2020سے جیل میں قید ہیں۔ شرجیل امام اورعمر خالد نے ستمبر 2023کے دلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ ہائی کورٹ نے الزامات کی سنگینی اور مبینہ سازش کی سنگین نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button