یوم حق خود ارادیت کی مناسبت سے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد: حقِ خودارادیت کے عالمی دن کے موقع پر فرینڈز آف کشمیر، پارلیمانی کشمیر کمیٹی اور کشمیر میڈیا سروس کے اشتراک سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی قائدین، سفارتکاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور حریت رہنماں نے شرکت کی۔ سیمینار میں حل طلب دیرینہ مسئلہ کشمیر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی 5 جنوری 1949 کی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے، جو کشمیری عوام کو آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں۔
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پانچ جنوری اقوامِ متحدہ کی جانب سے کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کئی نسلوں سے جاری ہے اور بالآخر آزادی ہی ان کا مقدر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کی ہے اور بھارتی جارحیت کے جواب میں مسلح افواج کے موثر کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچے بدستور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہائیوں کے جبر کے باوجود کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کے مصائب سے چشم پوشی ترک کرے اور واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
سابق ترجمان دفترِ خارجہ نفیس ذکریا نے کہا کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام بدستور ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے آگاہی مہمات اور تعلیمی اقدامات کی ضرورت ہے۔ موجودہ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث حقِ خودارادیت کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔
وزیر حکومت محترمہ نبیلہ ایوب، چیئرمین اسلام آباد چیمبر آف کامرس سردار طاہر، اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر اور حریت رہنما الطاف حسین وانی نے بھی سیمینار سے خطاب کیا اور کہا کہ پانچ جنوری دنیا کو کشمیری عوام کے حقوق یاد دلانے کا دن ہے۔
بنوں سے تعلق رکھنے والی ہندو اقلیتی برادری کی سماجی کارکن ڈاکٹر ساویرا پرکاش نے کہا کہ حرف پی پاکستان اور فلسطین جبکہ آئی بھارت اور اسرائیل کی نمائندگی کرتا ہے، اور کشمیریوں کی جدوجہد دراصل انصاف، امن اور انسانی وقار کے لیے جاری عالمی جدوجہد کا حصہ ہے۔
رہنما مسلم لیگ (ن)آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک پیچیدہ مگر قابلِ حل تنازع ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیری فخر سے کہتے ہیں: ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے اور انہیں یہ حق ہر صورت دیا جانا چاہیے۔
کشمیری رہنما اور وائس چیئرمین فرینڈز آف کشمیر عبد الحمید لون نے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کی انصاف کے لیے جاری جدوجہد کی یاد دہانی ہے اور اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اصولی حمایت جاری رکھی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے، کیونکہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔













