مقبوضہ جموں و کشمیر

سوپور قتل عام کے متاثرہ خاندان 33 برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف کے منتظر

سرینگر:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سوپور قتل عام کے متاثرہ خاندانوں کو33 برس کا طویل عرصہ گز جانے کے باوجود تاحال انصاف نہیں مل سکاہے۔ بھارتی فوجیوں نے 6 جنوری 1993 کو سوپور قصبے میں ادھا دھند گولیاں برسار کر 60 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیاتھا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے اس روز 60کشمیریوںکو شہیدکرنے کے علاوہ رہائشی مکانات اوردکانوں سمیت 400 سے زائد عمارتوں کو بھی نذرآتش کردیاتھا۔ تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں جبکہ ان کے پیاروں کے قاتل بھارتی فوجی آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس اندوہناک قتل عام کے عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ غاصب بھارتی فوجیوں نے ایک بس ڈرائیور کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور مسافروں پر گولیاں برسائیں جس سے 20 افرادموقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ مسافروں کو مارنے کے بعد، فوجیوں نے قریبی عمارتوں پر گن پاؤڈر، پیٹرول اور مٹی کا تیل چھڑک کر انہیں بھی نذر آتش کر دیا۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ شہید ہونے والے شہریوں میں سے 48گولی لگنے سے جاں بحق اور باقی کو زندہ جلادیاگیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ سوپور کے پانچ علاقوں آرم پورہ، مسلم پیر، کرلتانگ، شالاپورہ، شاہ آباد اور بوبیمیر صاحب میں 400 دکانوں اور 75رہائشی مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا۔جلی ہوئی عمارتوں میں خواتین کے ڈگری کالج جیسی تاریخی عمارتیں بھی تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ جب ہم نے بی ایس ایف اہلکاروں کو شہری کو گولیوں سے نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو انہیں کچھ سمجھ نہ آیا ۔ اس بہیمانہ قتل عام کے چند دن بعد، انہیں معلوم ہوا کہ ایک بی ایس ایف اہلکار کی رائفل ایک نامعلوم شخص نے چھین لی تھی اور اس واقعے کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔قتل عام اور آتش زنی کے عینی شاہد غلام رسول گنائی نے بتایا کہ فوجیوں نے ایک بس (JKYـ1901) کے ڈرائیور کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور مسافروں پر فائرنگ کی جس سے بیس مسافر موقع پر ہی شہید ہو گئے۔بعد ازاں فوجیوں نے بارود چھڑک کر دکانوں اور عمارتوں کو آگ لگا دی جس سے400 سے زائد دکانیں اور عمارتیں خاکستر ہو گئیں۔شالہ خاندان کے ایک رکن نے کہاکہ ہمارے خاندان کے پندرہ سالہ محمد اشرف شالہ، غلام رسول شالہ، سجاد احمد شالہ اور بشیر احمد شالہ سمیت چار افرادکو شہید کیاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ قتل عام سے ایک دن قبل مرکزی چوک کے قریب ہمارا پھلوں سے لدا ہوا یک ٹرک ڈرین میں پھنس گیاتھااور بی ایس ایف کی طرف سے فائرنگ شروع ہونے کے بعد خاندان کے چار افراد نے ایک دکان میںچھپ کر جان بچائی تھی ۔ فورسز اہلکاروں نے دکان میں گھس کر چاروں افراد کو شہید کردیا۔45سالہ طارق احمد کنجوال نے جواس واقعے کا عینی شاہد ہے ،کہا کہ ایک دکان میں ایک شخص کا آگ کے شعلوں میں لپٹا جسم ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ۔ طارق کو یہ بھی یاد ہے کہ کس طرح شاہین سٹوڈیو کے مالک شاہین اور اس کے اسسٹنٹ کو دکان کے اندر زندہ جلادیا گیا تھا۔ ٹائم میگزین میں سوپور قتل عام پر ”Blood Tide Rising”کے زیر عنوان ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی۔سرینگر سے شائع ہونے والے روزنامے گریٹر کشمیر نے جنوری 2007کی ایک رپورٹ میں 57نہتے شہریوں کے قتل عام کاحوالہ دیتے ہوئے اسے 1989کے بعد سے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں بدترین مظالم میں سے ایک قرار دیا۔گریٹر کشمیر نے جنوری 2007 کی ایک رپورٹ میں 14سال قبل 1993میں سوپور قصبے میں 57نہتے شہریوں کے قتل عام کاذکرکیا تھا۔ گریٹر کشمیر نے ٹائم میگزین کے حوالے سے کہاہے کہ ایک فوجی کی ہلاکت کے بدلے میں، بھارتی پیراملٹری اہلکاروں نے شہریوں کا قتل عام کیا اور سوپور مارکیٹ کی عمارتوں کو نذر آتش کیا ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button