بھارتی سفارت خانے نے 10مئی کو جنگ بندی کے دن ٹرمپ کے معاونین سے رابطہ کیا

واشنگٹن : امریکہ کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA)کے تحت کیے گئے انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے 10 مئی 2025کو ٹرمپ انتظامیہ کے تین اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ کیا تھاجس دن بھارت اورپاکستان درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق واشنگٹن میں قائم لابنگ فرم SHW Partners LLCکی جانب سے کئے گئے انکشاف میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانے نے وائٹ ہائوس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر اور قومی سلامتی کونسل کے رکی گل سے تنازعہ کی میڈیا کوریج پر بات چیت کی۔ بھارتی سفارت خانے نے ٹرمپ کے سابق مشیر جیسن ملر کی قیادت میںلابنگ فرم کے ساتھ اپریل 2025کے آخر میں رابطہ کیاتھاتاکہ 22اپریل کے حملے اور اس کے نتیجے میں آپریشن سندور کے آغاز کے دوران تجارتی مذاکرات اور وسیع تر پالیسی معاملات پر بھارت کی رسائی میں مدد حاصل کرے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سمیت وائٹ ہائوس اور امریکی حکومت کے اعلی عہدیداروںتک 10مئی کی رسائی رابطوں کے ایک وسیع سیٹ کا حصہ تھی جس کا مقصد میڈیا کے بیانیے کو تشکیل دینا اور جنگ بندی کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی بھارت کی پیغام رسانی کے مطابق کوریج کو یقینی بنانا تھا۔جنگ بندی کا اعلان عوامی طور پر 10مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ یہ امریکی ثالثی سے ممکن ہوئی ہے۔بھارت میںکانگریس کے جنرل سکریٹری جیرام رمیش نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ بہت کچھ واضح طور پر 10 مئی 2025 کو ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آپریشن سندور کو روکنے کا پہلا اعلان کیا۔





