ہندو انتہا پسندوں کے دبا ئومیں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا اجازت نامہ منسوخ

جموں: بھارت کے قانونی ادارے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی)نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ضلع ریاسی کے علاقے ککریال میںویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کامیڈیکل کورس جاری رکھنے کا اجازت نامہ واپس لے لیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ اقدام ہندو انتہاپسند تنظیموں کے دبائو میں اٹھایاگیا ہے۔ این ایم سی کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB)نے انفراسٹرکچر، فیکلٹی اور طبی مواد میںسنگین خامیوںکا حوالہ دیتے ہوئے تعلیمی سال 2025-26 کے لیے 50 سیٹوں کے ساتھ ایم بی بی ایس کورس جاری رکھنے کے لیے اجازت نامے کو منسوخ کر دیا۔کشمیری تعلیمی ماہرین نے کہاہے کہ جب مسلمان طلباء کی ایک بڑی تعداد نے میرٹ پر نشستیں حاصل کیں توہندو انتہا پسند تنظیموںنے کالج میں اوپن میرٹ کے داخلوں کے خلاف کھلی مہم چلائی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے یہ خدشات سچ ثابت ہوئے ہیں کہ نئی دہلی کشمیری طلبا ء کے لیے میرٹ پر مبنی مواقع کی حفاظت کے بجائے فرقہ وارانہ دبائو میں فیصلہ کرے گی۔طلباء اور والدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اجازت نامہ واپس لینے سے کشمیری مسلمان طلباء پر اثر پڑے گا جنہوں نے خالصتا میرٹ پر داخلہ حاصل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیری نوجوانوں کو پسماندگی میں دھکیلنے اور اعلی پیشہ ورانہ تعلیم تک ان کی رسائی کو روکنے کے لیے ظالمانہ قوانین سے لے کر تعلیمی استحصال تک ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تعلیم ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے، جہاں کشمیری مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیلنے کے لئے تعلیمی ادارے، بھرتی کے عمل اور اسکالرشپ سکیموں کو ازسرنو تشکیل دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے کشمیریوں کے احساس محرومی کو مزید بڑھاتے ہیں اور پہلے سے فوجی قبضے کا شکار کشمیری نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔ این ایم سی نے دعویٰ کیا کہ فیصلہ اچانک معائنے اور فیکلٹی میں پائی جانے والی کمیوں کے بعد کیا گیا۔ تاہم مبصرین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کو ہتھیار بنانے کی بھارتی پالیسی ہے جہاں انتہا پسند تنظیموں کے حکم پر فرقہ وارانہ اور سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے میرٹ کو قربان کیا جاتا ہے۔واضح رہے ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں میرٹ پرمسلمان طلباء کی اکثریت کو داخلہ مل گیا تھاجو مودی حکومت کو ہضم نہیں ہوا اوراس نے تعلیمی سیشن جاری رکھنے کا اجازت نامہ ہی منسوخ کروادیا۔






