کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کیلئے کالے قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے، حریت کانفرنس

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فورسز کی طرف سے سرینگر سمیت وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں دو درجن سے زائد کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ان گرفتاریوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی اور امن پسند کشمیریوں کو خو ف و دہشت کا نشانہ بنانا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا مقبوضہ علاقہ میں کشمیریوں کی جائزجدوجہد کو دبانے کیلئے بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے گزشتہ روز نئی دلی میں جموں و کشمیر کے بارے میں ایک جائزہ اجلاس کے دوران بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کی مذمت کی، جس میں انہوں نے دعوی کیا تھاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں دیرپا امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت درحقیقت بین الاقوامی تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ میں جرائم کی جنگ اور بین الاقوامی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت، قابض فوج، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مشترکہ طور پر مقبوضہ کشمیر میں ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں ملوث ہیں۔ امیت شاہ کی جانب سے قابض حکام اور لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کو کشمیریوں کیخلاف آپریشن جاری رکھنے اورمقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند تنظیموں اور گروپوں کو نشانہ بنانے کی ہدایات پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے اور 1947سے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کیلئے کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بی جے پی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے تمام پرامن طریقے کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال بھارت کی نام نہاد جمہوریت کیلئے شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جبری گرفتاریاں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، گھروں پر چھاپے اور املاک کی ضبطی کی کارروائیوں کا مقصدآزادی پسند کشمیریوں کو خاموش کرانا اورانہیں دہشت زدہ کرنا ہے۔حر یت ترجمان نے پھرکہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیاجانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت، کارکنوں، مذہبی رہنمائوں، صحافیوں، نوجوانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور عام کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاجا رہا ہے اور اس مقصد کیلئے انسداد دہشت گردی کے کالے قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔حریت ترجمان نے بھارت پرزوردیاکہ وہ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف جاری کریک ڈائون اور مظالم کا سلسلہ ترک کرے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کرنے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔






