نئی دلی: ”ٹی ایم سی“ارکان پارلیمنٹ کا امیت شاہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ
پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول کر کئی ارکان حراست میں لیے
دہلی:ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اراکین پارلیمنٹ نے آج نئی دلی میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”بنگال مودی-شاہ کی گندی سیاست کو مسترد کرتا ہے“۔ جیسے نعرے درج تھے۔پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول کر کئی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل مودی حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کو ہراساں کرنے کیلئے مرکزی ایجنسیوںکا غلط استعمال کر رہی ہے۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت ٹی ایم سی کے سرکردہ ارکان پارلیمنٹ کر رہے تھے، جن میں ڈیرک اوبرائن، مہوا موئترا، ستابدی رائے، بپی ہلدار، ساکیت گوکھلے، پرتیما مونڈل، کیرتی آزاد اور ڈاکٹر شرمیلا سرکار شامل تھیں۔ انہوں نے امیت شاہ کے خلاف نعرے لگائے ۔اس دوران پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا اور اوبرائن اور موئترا سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیااوراٹھا کر وین میں ڈال دیا۔
یاد رہے کہ یہ احتجاج جمعرات کو بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کیطرف سے ٹی ایم سی سے وابستہ ایک سیاسی کنسلٹنسی فرم اور کولکتہ میں تنظیم کے شریک بانی پراتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپے کے بعد کیا گیا ۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بعد ازاں دونوںمقامات کا دورہ کیا اور ای ڈی کے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کو نشانہ بنانے کے لیے مرکزی تحقیقاتی اداروں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی نے چھاپوں کے دوران امیدواروں کی فہرستوں اور اسٹریٹجک دستاویزات سمیت انکی پارٹی کا حساس مواد ضبط کر لیاہے ۔ ممتا بنر جی نے کہا کہ امت شاہ یہ سب اپنے سیاسی فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔KMS-15/M






