بھارت میں مسلمانوں کو کالے قوانیں کے ذریعے نشانہ بنا نے کا سلسلہ جاری

نئی دہلی: حقوقِ انسانی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایک بار پھر وسیع دہشت گردی کے کالے قوانین اور مبہم الزامات کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے اور آن لائن اظہارِ رائے کو جرم قرار دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے پانچ افراد کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ آن لائن انتہا پسندی کے الزامات کے تحت چارج شیٹ دائر کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، این آئی اے نے احمد آباد کی خصوصی عدالت میں پانچ مسلمانوں محمد فردین، قریشی صفی اللہ ، محمد فائق، ذیشان علی، اور شمع پروین کے خلاف چارج شیٹ دائر کی جن پر مبینہ طور پر ممنوعہ تنظیموں کے نظریات کو فروغ دینے کا الزام ہے۔ ایجنسی نے اس کیس میں غیرقانونی سرگرمیوں کے روک تھام کے کالے قوانین (UAPA)، بھارتیہ نیائے سنہیتا اور آرمز ایکٹ کے سخت دفعات کا سہارا لیا، حالانکہ مقدمہ زیادہ تر آن لائن پوسٹس اور ڈیجیٹل سرگرمی کے گرد گھومتا ہے۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر”اشتعال انگیز” ویڈیوز، آڈیو، تصاویر اور تحریری مواد شیئر کیے، جسے انتہا پسندی کی حمایت کے مترادف قرار دیا گیا۔تاہم سول سوسائٹی گروپس کا کہنا ہے کہ بھارت اب اظہارِ رائے اور تشدد کے درمیان فرق ختم کر چکا ہے اور سوشل میڈیا پر کی جانے والی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر افراد کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، چارج شیٹ میں آن لائن پوسٹس، لائکس، کمنٹس اور ڈیجیٹل روابط کی تشریح پر انحصار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار بھارت کی تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں کے لیے گرفتاریوں کو جائز ثابت کرنے اور مقدمات کو سالوں تک طول دینے کا معمول بن چکا ہے۔ ایک حقوقِ انسانی کے وکیل نے کہا کہ زیادہ تر معاملات میں خود قانونی کارروائی ہی سزا بن جاتی ہے اور یو اے پی اے کے تحت بھارت میں سزا کی انتہائی کم شرح اس بات کی واضح دلیل ہے۔
این آئی اے نے الزام لگایا کہ دہلی کے محمد فائق نے بھارتی ریاست پر تنقید سے متعلق پوسٹس شیئر کر کے ”اہم کردار”ادا کیا جبکہ دیگر پر مواد کو بڑھاوا دینے یا آن لائن گروپس میں شامل ہونے کے الزامات ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وسیع اور مبہم الزامات حکام کو بغیر کسی تشدد کے سیاسی، مذہبی یا نظریاتی گفتگو کو جرم ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ایجنسی نے کچھ ملزمان سے ڈیجیٹل مواد اور ہتھیار برآمد کرنے کا بھی دعوی کیا ہے، جسے حقوقِ انسانی کے گروپس ناقابلِ تصدیق قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ الزامات کمزور کیسز کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ شمع پروین کے معاملے میں این آئی اے نے ایک پاکستانی شہری سے رابطے اور ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزامات عائد کیے، جو مسلمانوں کے خلاف ”غیر ملکی تعلق”والا بیانیہ بنانے کے لیے عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت آن لائن اظہارِ رائے کو دہشت گردی کے مترادف قرار دے کر خاص طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بدنام کرنے، خوفزدہ کرنے اور مبالغہ آمیز ”سیکورٹی”کا بیانیہ قائم کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، جس سے بنیادی انصاف، آزادی اظہار اور قانونی اصول کھل کر پامال ہو رہے ہیں۔





