غزہ امن منصوبے میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے ، مسعود خان

اسلام آباد : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ غزہ امن منصوبے میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کے تعمیری کردار کے اعتراف کا عکاس ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سابق صدر نے کہا کہ پاکستان نے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر ماضی میں صدر ٹرمپ پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے زور دیا تھا، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی میں تفصیلی غور و فکر، سیاسی قوتوں اور متعلقہ حلقوں سے مشاورت کے بعد کیا جانا چاہیے تاکہ فیصلہ قومی اصولوں اور عوامی جذبات سے ہم آہنگ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے مجوزہ کثیرسطحی گورننس فریم ورک، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولے پر مبنی ہے، اسی صورت مو¿ثر رہ سکتا ہے جب تک صدر ٹرمپ خود اس کی قیادت اور براہِ راست سرپرستی کرتے رہیں۔ یہ منصوبہ کسی فوری یا عارضی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے زیرِ بحث تجاویز اور خیالات کو یکجا کر کے اسے ایک جامع روڈمیپ کی شکل دی گئی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس فریم ورک میں تین سطحی انتظامی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے، جس میں ”بورڈ آف پیس“ مرکزی اور سب سے طاقتور فورم ہوگا، جس کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے۔ اس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ جبکہ تیسری سطح پر غزہ کے لیے ایک مقامی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ اس منصوبے میں انتظامی سطح پر فلسطینیوں کی محدود شمولیت شامل ہے، جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتظامی اور وزارتی تجربہ رکھنے والے افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نظام کو جزوی طور پر بلدیاتی نوعیت تو ملے گی، تاہم اصل اسٹریٹجک اور فیصلہ کن اختیارات بالائی فورمز کے پاس ہی رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار ادارہ جاتی ڈیزائن سے زیادہ سیاسی حقائق پر ہے۔ جب تک صدر ٹرمپ کی سیاسی گرفت مضبوط رہے گی، یہ فریم ورک فعال رہے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بورڈ آف پیس اور ایگزیکٹو سطح پر وہ شخصیات شامل ہوں گی جو امریکی صدر کے قریبی سمجھی جاتی ہیں، جن میں کابینہ کے ارکان، قومی سلامتی کے حکام اور سیاسی و کاروباری حلقوں سے وابستہ صدر کے دیرینہ رفقا شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیرِ نو سے وابستہ شخصیات کی شمولیت سے منصوبے کے معاشی اور تعمیراتی پہلو نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔سردار مسعود خان نے کہا کہ ابتدائی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل جنگ، شدید تباہی اور جانی نقصانات سے دوچار غزہ کے عوام اگر بنیادی سلامتی اور معمولاتِ زندگی کی جزوی بحالی کے امکانات دیکھیں تو محدود تعاون پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تاہم مکمل آزادی، خودمختاری اور وسیع علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کے خاتمے کا امکان بدستور موجود نہیں ہوگا۔ سردار مسعود خان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ غزہ میں ناکامی اقوام متحدہ کی غیر مو¿ثریت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مفلوج ہونے کی بنیادی وجہ مستقل ارکان کی عمومی مزاحمت نہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے بار بار ویٹو کا استعمال رہا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کو کارروائی سے روکا گیا، اس نے خود غیر فعال ہونے کا انتخاب نہیں کیا، لہٰذا کثیرالجہتی اداروں پر الزام تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ یکطرفہ یا متبادل انتظامات کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں، تاہم یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر امریکی اتحادی اقوام متحدہ کے نظام کے متبادل کے طور پر کسی ایک ملک کی قیادت والے ماڈل کو قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ یورپ میں اختلافی آوازیں ابھر رہی ہیں جبکہ گلوبل ساوتھ اب بھی منقسم ہے اور تاحال کوئی مشترکہ مو¿قف سامنے نہیں آ سکا۔۔






