مقبوضہ جموں و کشمیر

آغا سید حسن موسوی کی طرف سے صحافیوں کی پولیس اسٹیشنوں میں طلبی کی شدید مذمت

سرینگر:
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن موسوی الصفوی نے صحافیوں کو محض اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے پر پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق آغا سید حسن الموسوی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ مساجد اور علمائے کرام کی جبری پروفائلنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو پولیس اسٹیشنوں میں طلب کرکے ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان سے حلف ناموں، ضمانتوں اور تحریری یقین دہانیوں پر دستخط کروائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابل قبول ہیں۔آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا کہ مذہبی مقامات کو محض شناخت کی بنیاد پر نگرانی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اور عوامی مفاد میں حقائق پر مبنی صحافت کو کسی صورت مجرمانہ عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اداکرنے پر ہراساں کرنا آزادی صحافت پر براہ راست حملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت مذہبی آزادی اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے۔ انہوں نے قابض انتظامیہ پر زوردیا، صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری روکا جائے اور آئینی حقوق و جمہوری اقدار سے وابستگی کو عملی طور پر ثابت کیا جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button