بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کریں، سی پی جے

نیویارک: امریکہ میں قائم صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کی نگران تنظیم ”کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس( سی پی جے) نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سی پی جے کے ایشیائی امورکے کوآرڈینیٹرKunal Majumder نے تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ صحافیوں کو ان کے جائز کام کے لیے تھانون میں طلب کرنا مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر میڈیا نمائندگان کو ڈرانے دھمکانے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حکام کو چاہیے کہ وہ ہراساں کرنے کی کارروائیاں فوری طور پر بند کریں اور یہ بات یقینی بنائیں کہ صحافیوں کو انکے پیشہ واانہ فرائض کی ادائیگی میں مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ ہو۔
سی پی جے نے اپنے بیان میں کہا کہ کہ 14 جنوری کو دی انڈین ایکسپریس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بشارت مسعود کو سری نگر شہر کے سائبر پولیس تھانے میں اس رپورٹ کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا جو انہوں نے کشمیر کی مساجد اور ان کے انتظام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والی پولیس مشق پر لکھی تھی۔تنظیم نے کہا کہ بعد میں پولیس مسعود کو ضلع مجسٹریٹ کے پاس لے گئی جہاں انہیں ایک حلف نامے پر دستخط کرنے کو کہا گیا جس میں لکھا تھاکہ وہ اس طرح کی رپورٹنگ دوبارہ نہیں کریں گے۔ بشارت مسعود نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس پر اگلے چار دن انہیں مسلسل تھانے طلب کیا جا تا رہا۔
سی پی جے نے مزید کہا کہ 19 جنوری کو ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو بھی پولیس نے مذکورہ رپورٹنگ کے سلسلے میں طلب کیا تھا۔






