مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کیساتھ انکے اہلخانہ بھی نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہیں، رپورٹ

اسلام آباد: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں آئمہ کرام اور مساجد کی پولیس پروفائلنگ کی رپورٹنگ پر صحافیوں کی تھانو ں میں طلبی کی مقامی اور بین الااقوامی صحافتی تنظیموں کی طرف سے بھر پور مذمت کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس جرمن خبر رساں ادارے ”ڈی ڈبلیو“ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ صحافیوں کی حالیہ طلبی اور ان سے حلف ناموں پر دستخط پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا (ای جی آئی)، پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی)، کشمیر پریس کلب، دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے) اور متعدد دیگر صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے اورصحافیوں کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ فوراصختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جمہوریت میں ایسے غیرمعمولی اقدامات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔
ڈی یو جے کی صدر سجاتا مدھوک نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ان کی رپورٹس پر طلب کرنے اور دھمکانے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کو اپنا کام کرنے پر نشانہ بنانا بند کیا جائے۔ ہم ایڈیٹرز اور میڈیا مالکان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔“پریس کلب آف انڈیا کی صدر سنگیتا بروا پشروتی نے پولیس کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘پولیس کا اقدام صحافیوں کی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں صریح مداخلت ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا’چار دنوں تک پندرہ پندرہ گھنٹے تک تھانے میں رکھنا اور ان سے بانڈ پر دستخط کروانا صحافیوں کو ہراساں کرنے کا واضح ثبوت ہے۔ پی سی آئی کی صدر نے مزید کہا کہ ایسے واقعات خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جس سے صحافیوں کا آزادانہ کام کرنے کا ان کا آئینی حق متاثر ہوتا ہے۔میڈیا تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ صحافیوں کی ہراسانی بند کی جانی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافی اپنے کام کرنے کے دوران کسی بھی غیر معقول پولیس کارروائی کا شکار نہ ہوں۔
’انڈین ایکسپریس‘ نے اپنے سری نگر بیورو کے صحافی اور ہاسسٹنٹ ایڈیٹر بشارت مسعود کو درپیش ہراسانی کی تفصیل شائع کی ہے۔ اخبار نے بتایا کہ مسعود کو چار دن تک شہر کے سائبر پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا اور انہیں ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔
اخبار نے پہلے صفحے پر شائع رپورٹ میں لکھا، ’مسعود، جو گزشتہ 20 سال سے سری نگر سے انڈین ایکسپریس کے لیے رپورٹنگ کر رہے ہیں، نے بانڈ پر دستخط نہیں کیے۔“ انڈین ایکسپریس کے مطابق، پولیس نے مسعود کو طلب کرنے کی وجہ واضح طور پر نہیں بتائی، تاہم ایک افسر نے کہا کہ انہیں ان کی نیوز رپورٹ کے بعد طلب کیا گیا تھا۔’ہندوستان ٹائمز‘ کے رپورٹر عاشق حسین کو بھی زبانی طلبی موصول ہوئی۔ لیکن اخبار نے کہا کہ ”ہم نے تحریری طلبی، وجوہات کے ساتھ، طلب کی تاکہ جواب دیا جا سکے۔“خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دو دیگر صحافیوں کو بھی طلب کیا گیا تھا، تاہم ان میں سے ایک سفر میں تھے اور دوسرے تھانے نہیں گئے۔ حساس نوعیت کے معاملے کی وجہ سے انہوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کیا۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں صحافیوں کے خاندانوں نے بھی نفسیاتی دباو¿ کی قیمت چکائی ہے، جس کے باعث زیادہ تر صحافی خود سنسرشپ پر مجبور ہو گئے ہیں۔
کشمیر کے متعدد صحافیوں (جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے) کا کہنا ہے کہ انہیں حیرت ہے کہ یہ معاملہ اب جا کر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس بار معاملہ اس لیے نمایاں ہوا کیونکہ وادی کے کچھ سرکردہ صحافیوں کو طلب کیا گیا۔ فری لانسرز صحافی تو پہلے ہی خدا کے رحم و کرم پر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ”اگر معمولی قسم کی رپورٹوں پر بھی طلب کیا جاتا ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کشمیر میں کسی سنجیدہ تحقیقاتی رپورٹ کی کوشش کرنے پر صحافی برادری میں کس قدر خوف پایا جاتا ہے۔
نیوز پورٹل ’نیوز لانڈری‘ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 25 کشمیری صحافیوں کو ڈرایادھمکایا گیا۔
’نیوز لانڈری‘ نے مزید کہا کہ اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کے بعد سے گزشتہ چھ برسوں میں صحافیوں کے خاندانوں نے بھی نفسیاتی دباو¿ کی قیمت چکائی ہے، جس کے باعث زیادہ تر صحافی خود سنسرشپ پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کچھ برسوں تک جیلوں میں رہے، کچھ اب بھی قید ہیں۔ کچھ کو سفر پر پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ چند خوف کے باعث پیشہ ہی چھوڑ گئے۔“
سی پی جے کے ایشیا-پیسیفک پروگرام کے کوآرڈینیٹر کونال مجمدار کا کہنا تھا کہ ”حکام کو صحافیوں کی ہراسانی بند کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافی اپنے کام کرنے کے دوران کسی بھی غیر معقول پولیس کارروائی کا شکار نہ ہوں۔“







