مودی سرکار کی دریاؤں پر اسٹریٹجک کنٹرول کی کوشش
نہروں ، سرنگوں کے ذریعہ پانی کا رخ موڑنے کے منصوبوں کی عملی امکانیت کی تلاش
ارشد میر
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے نئے پن بجلی منصوبوں کے لیے جگہوں کی نشاندہی اور آبی ذخائر کی تعمیر کے منصوبے دراصل ایک ایسی خطرناک حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے نہ صرف مقبوضہ علاقے کے قدرتی وسائل پر مکمل قبضہ کیا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کے لیے زندگی کی حیثیت رکھنے والے دریاؤں کے پانی کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی وزیرِ توانائی نے ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت مقبوضہ کشمیر سے پنجاب، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش اور دہیآ سمیت شمالی بھارتی ریاستوں کو پانی منتقل کرنے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے نہروں اور سرنگوں کے ذریعے پانی کا رخ موڑنے کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے اور دو سے تین ممکنہ راستوں کی عملی امکانیت یا فزیبلٹی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ کچھ پن بجلی منصوبے پہلے ہی زیرِ تعمیر یا فعال ہیں جبکہ مزید منصوبوں کو بحال کرنے اور آبی ذخائر کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔
بظاہر یہ منصوبے توانائی کی پیداوار اور پانی کے بہتر استعمال کے نام پر پیش کیے جا رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کا اصل مقصد توانائی کے بحران کا حل نہیں بلکہ دریاؤں کے بہاؤ پر اسٹریٹجک کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دریاؤں کا پانی پاکستان کے زرعی، معاشی اور ماحولیاتی نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے طے پایا تھا کہ ان دریاؤں کے پانی کی تقسیم ایک طے شدہ اور منصفانہ اصول کے تحت ہو گی۔ مگر بھارت گزشتہ چند برسوں سے مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو اس معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔
مودی حکومت نے ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر نہ صرف مقبوضہ کشمیر کی سیاسی اور آئینی حیثیت کو ختم کیا بلکہ وہاں کے قدرتی وسائل کو بھی بے دریغ استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ پانچ اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں زمینوں کی بندر بانٹ، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں اور اب آبی وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کشمیر کو ایک نوآبادیاتی طرز کے علاقے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ پن بجلی منصوبوں کے نام پر بڑے ڈیموں اور نہروں کی تعمیر دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد مقبوضہ خطے کے وسائل کو بھارت کے مفادات کے لیے استعمال کرنا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف کشمیری عوام کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔ کشمیر کے دریاؤں کا رخ موڑنے یا ان کے بہاؤ کو کم کرنے کی کوشش دراصل پاکستان کے خلاف ایک خاموش آبی جارحیت کے مترادف ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا بڑا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ اگر بھارت ان دریاؤں کے پانی کو روکنے یا موڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان کی زراعت بلکہ اس کے غذائی تحفظ اور معاشی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے محض توانائی یا ترقی کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بھارت پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے متنازع رویہ اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے یا اس پر نظرِ ثانی کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ اگرچہ یہ معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور عالمی بینک اس کا ضامن ہے، مگر بھارت کی موجودہ پالیسی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کو خاطر میں لانے کے بجائے طاقت کے بل پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ یہی رویہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
بھارت کی اس پالیسی کو اس کے وسیع تر توسیع پسندانہ رویے کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں بھارت نے اپنے تقریباً تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ کبھی نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات، کبھی بنگلہ دیش کے ساتھ آبی مسائل، کبھی سری لنکا کے ساتھ سمندری حدود کے جھگڑے اور کبھی چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت خطے میں ایک بالادست طاقت کے طور پر خود کو منوانے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ کشمیر کے آبی وسائل پر کنٹرول کی کوشش اسی سلسلے کی ایک اور مثال ہے۔
مزید برآں مقبوضہ کشمیر میں ایسے منصوبوں کا اعلان اس وقت کیا جا رہا ہے جب وہاں کے عوام پہلے ہی شدید سیاسی جبر، فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا شکار ہیں۔ کشمیری عوام کو اپنی زمینوں، وسائل اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا بنیادی حق بھی حاصل نہیں۔ اس کے باوجود بھارت وہاں ایسے بڑے منصوبے شروع کر رہا ہے جن کے اثرات مقامی آبادی، ماحولیات اور خطے کے آبی نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی کو نہ تو کشمیری عوام کے مفادات کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کی۔
عالمی برادری کے لیے بھی یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر بھارت کو اس طرح یکطرفہ اقدامات کرنے کی کھلی چھوٹ ملید رہی تو یہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرے گا بلکہ مستقبل میں آبی تنازعات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دو بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی کا مرکز ہے۔ ایسے میں پانی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی اور اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
درحقیقت مودی حکومت کی پالیسی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ بھارت طاقت کے نشے میں بین الاقوامی اصولوں اور علاقائی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کے نام پر دریاؤں کا رخ موڑنے اور پانی کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ یہ خطے میں ایک نئے آبی بحران کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ عالمی برادری اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بھارت کو بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا پابند بنائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ خطرناک روش نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتی ہے۔ حقتقپ یہ ہے کہ پانی کو ہتھیار بنانے کی پالیسی کسی بھی مہذب ریاست کے شایانِ شان نہیں، اور بھارت کے حالیہ اقدامات اسی غیر ذمہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔








