بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کیلئے مظفر آبادمیں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے
مظفرآباد:
بھارتی یومِ جمہوریہ کے یوم سیاہ کے طورپر منانے کیلئے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں زبردست مظاہرے کئے گئے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر اور جموں کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کی قیادت کشمیری حریت رہنمائوں شیخ عبدالماجد، محمد اشرف ڈار، سید منظور احمد شاہ، ذاہد اشرف اور مشتاق الاسلام نے کی۔مظاہرے میں اہلیانِ مظفرآباد،کشمیری مہاجرین و انصار، سیاسی، سماجی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں، وکلا، طلبا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے کے شرکا نے سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کے حق میں نعرے درج تھے ۔
مظاہرین نے اس موقع پر بھارت مخالف اورجدوجہد آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کیے۔اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت جموں و کشمیرپر اپنے غیر قانونی تسلط کو جاری رکھنے کیلئے تمام بین الاقوامی قوانین،اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اوراپنے ہی آئین کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست کا یہ طرزِ عمل اس کے نام نہاد جمہوری دعوئوں کی کھلی نفی ہے ۔ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ نے مزید کہا کہ جس ریاست نے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہو، اسے یومِ جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی، قانونی یا انسانی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں اور کالے قوانین بھارتی ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان اورجموں کشمیر لبریشن سیل کے ڈائریکٹر راجہ سجادنے کہا کہ بھارت میں ہندو اکثریت کے علاوہ تمام اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، جہاں جموں و کشمیر کے عوام کو دانستہ طور پر انکے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی موجودگی ایک سامراجی اور غیر قانونی فوجی قبضے کی صورت اختیار کر چکی ہے اور بھارتی یومِ جمہوریہ کشمیری عوام کے لیے جمہوریت نہیں بلکہ غلامی، جبر اور استحصال کی علامت ہے۔سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیرسے جنوبی ایشیاء کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے ، جس کی مکمل ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
احتجاج کے اختتام پرایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ کی قیادت میں ایک وفد نے اقوامِ متحدہ کے مبصر دفترمیں ایک یادداشت پیش کی جس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی ادرے پر زوردیاگیاہے کہ وہ پنی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ و پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے۔شرکا میں شرکا میںسیکریٹری لبریشن سیل انصر خان،سردار ساجد محمود ،ڈپٹی کمشنر منیر قریشی،حکومتی اداروں کے نمائندگان،سید یاسر نقوی، سمعیہ سجاد چشتی ،راجہ آفتاب احمد خان اوردیگر شامل تھے ۔
ادھر کشمیری کارکنوں نے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مظفر آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ پاسبان حریت جموں وکشمیر کے زیراہتمام مظفرآباد پریس کلب کے باہر مظاہرے کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی قابض فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں اورکالے قوانین کے نفاذ کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا تھا۔اس موقع پر مظاہرین نے پوسٹرز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کو اجاگر کیاگیاتھا۔ شرکا نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے وحشیانہ مظالم کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت اور اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔





