مقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں این آئی اے کے چھاپے

سرینگر : غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے سوپور، بانڈی پورہ اور سرینگر میں چھ مقامات پر چھاپے مارے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے کی ٹیموں نے بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز کے ساتھ ملکر شمالی اور وسطی کشمیر میں رہائشی مکانات اور دیگر عمارتوں میں بیک وقت تلاشی کی کارروائیاں کیں جس سے نام نہاددہشت گردی کی تحقیقات کی آڑ میں کشمیریوں کو اجتماعی سزادینے اور ظلم وجبر کی بھارتی پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاںکشمیریوں کو ہراساں کرنے، لوگوں کومشکلات سے دوچارکرنے اورمقبوضہ علاقے میں پوری آبادی کو مجرم قراردینے کے لئے ہتھیار کے طورپر استعمال کی جاتی ہیں۔ این آئی اے کے اہلکاروں نے ضلع بانڈی میں ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر محمد مقبول میر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ ان کا بیٹا مبشر مقبول میر عرف شبوپہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانونUAPA کے تحت نظربند ہے۔ ایک بزرگ ریٹائرڈ استاد کے گھر پر چھاپے نے مقامی لوگوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے جو اسے اجتماعی سزا اورگرفتار افراد کے اہل خانہ پر نفسیاتی دباو¿ ڈالنے کی کوشش قراردیتے ہیں۔اسی طرح کے چھاپے سوپور اور سرینگرمیں بھی مارے گئے جہاں لوگوں نے بتایا کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں نے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا، نقل و حرکت پر پابندی لگا دی اورگھروں میں گھس کر تلاشی لی جس سے ان علاقوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔سول سوسائٹی کے ارکان اورانسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ این آئی اے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و جبر کا ایک اہم آلہ بن گیا ہے جو جھوٹے الزامات، جبری اعترافات اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے، لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور کشمیری معاشرے کے سماجی تانے بانے کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت بغیر کسی ثبوت کے طلباء، اساتذہ، تاجروں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔ آخری اطلاعات آنے تک چھاپوں کا سلسلہ جاری تھا۔






