مظفر آباد :” یومِ یکجہتی کشمیر“ پر ریلی اور عظیم الشان جلسے کا انعقاد

مظفر آباد : “یوم یکجہتی کشمیر “ پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ ، مہاجرین نمائندہ فورم اور کشمیر لبریشن سیل کے ِزیر اہتمام آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک تاریخ ساز ریلی اور عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرینِ جموں و کشمیر، انصار، سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان، سول سوسائٹی، خواتین اور طلبہ نے بھرپور شرکت کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا عملی اظہار کیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جلسہ عام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ، پاکستان اور آزاد جموں وکشمیر کے قومی ترانوں ہوا۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان کے قومی تشخص اور نظریاتی اساس سے جڑا ہوا دن ہے، آج دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستانی بھارت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم اور جبر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی ، مسئلہ کشمیر ایک زندہ اور سلگتا ہوا بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا فوری، منصفانہ اور پائیدار حل نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور کشمیریوں کا رشتہ کلمہ طیبہ پر مبنی ہے اور یہ رشتہ کسی بھی دباو¿ سے کمزور نہیں ہو سکتا۔ حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر اب پاکستان کا ایک قومی دن بن چکا ہے اور اس کی بازگشت او آئی سی، ترکیہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھی سنائی دیتی ہے۔
جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جس طرح کشمیر پر بھارتی قبضہ ناجائز ہے، اسی طرح فلسطین پر اسرائیلی قبضہ بھی ناجائز ہے، اور مظلوم اقوام اپنی آزادی کی جدوجہد کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سابق کنوینئر محمود ساگر نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کا جذبہ اور اتحاد اس بات کی واضح علامت ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی اب زیادہ دور نہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر کے ترجمان شوکت جاوید میر، مہاجرین نمائندہ فورم کے چیئرمین غلام حسن بٹ، مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما ایڈوکیٹ یاسر نقوی، جماعتِ اسلامی آزاد کشمیر کے رہنما شیخ عقیل الرحمان، ڈاکٹر مشتاق، جے یو آئی کے رہنما مولانا محمد یونس شاکر، جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے صدر عظمت حیات اور کشمیر سپریم لیگ کے چیئرمین مسعود خان سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے تحریکِ آزادی کشمیر کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا۔
جلسے کے اختتام پر کشمیر لبریشن سیل کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو شرکاءنے متفقہ طور پر منظور کیا، جس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر ایکبین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جبری گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
جلسے کے بعد ایک پ±رامن اور منظم ریلی نکالی گئی، جس میں خواتین، مہاجرین اور انصار کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی نظم و ضبط اور امن کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اور قومی ہیرو شاہد خان آفریدی نے جلسے اور ریلی میں خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام کے ساتھ گہری وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ یومِ یکجہتی کشمیر پر کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کو اپنا اخلاقی اور قومی فرض سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ آزادی کشمیر محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ ایک وراثتی اور اصولی تحریک ہے، اور ان کے خاندان کا کشمیر سے تاریخی رشتہ اس جدوجہد کو ان کے دل کے مزید قریب کر دیتا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ نے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں، مہاجرین، انصار، طلبہ اور عوام الناس کو اس فقیدالمثال ریلی اور جلسہ عام میں شرکت پر خوش آمدید کہا اور ان کے جذبے اور نظم و ضبط کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
کشمیر لبریشن سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راجہ سجاد نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج مظفرآباد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ بھی صرف اور صرف کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔







