مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین گریجویٹی اور جی پی فنڈ سے محروم

سرینگر:غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ دو برس کے دوران ریٹائر ہونے والے سینکڑوں سرکاری ملازمین کو تاحال ان کی گریجویٹی اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ (جی پی ایف) کی رقوم ادا نہیں کی گئیں جس کے باعث متاثرہ ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رکن اسمبلی رامیشور سنگھ کی طرف سے اسمبلی میں اٹھائے گئے سوال کے تحریری جواب میں حکام نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران سینکڑوں سرکاری ملازمین ریٹائر ہو چکے ہیں، تاہم ان کی گریجویٹی، جنرل پروویڈنٹ فنڈ اور دیگر واجب الادا رقوم کی ادائیگی اب تک نہیں کی جا سکی۔تحریری جواب کے مطابق 31 جنوری 2026 تک گریجویٹی کی مد میں زیر التوا واجبات کی مجموعی رقم ایک ہزار 635 کروڑ روپے جبکہ جنرل پروویڈنٹ فنڈ کی مد میں 3 ہزار 471 کروڑ روپے بنتی ہے، یوں مجموعی طور پر زیر التوا ادائیگیوں کا حجم 5 ہزار 106 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔جب حکام سے پوچھا گیا کہ ان واجبات کی ادائیگی کب تک ممکن ہو سکے گی تو انہوں نے جواب دیا کہ”ملازمین کی گریجویٹی اور جی پی فنڈ سے متعلق بلوں کی کلیئرنس حکومت کی مجموعی مالی حالت اور دستیاب وسائل پر منحصر ہے۔”اس انکشاف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتظامیہ کی سنگین مالی مشکلات اور ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش شدید پریشانیوں کا پردہ فاش ہوا ہے، کیونکہ یہ ملازمین اپنی بعد از ملازمت زندگی میں انہی قانونی واجبات پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ گریجویٹی اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ سرکاری ملازمین کے وہ لازمی اور قانونی حقوق ہیں جو طویل عرصے تک عوامی خدمات انجام دینے کے بعد ان کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔حکام کا یہ اعتراف کہ ادائیگی کا انحصار مالی دستیابی پر ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی مالی صحت اور سابق سرکاری ملازمین کے بنیادی قانونی حقوق کی ادائیگی میں ناکامی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button