World

کشمیریوں کے حق خودارادیت کا احترام کیا جانا چاہیے، عاصم افتخار احمد

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عاصم افتخار احمد نیویارک میں ”کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں: تنازع سے متاثرہ اور قابض علاقوں میں سماجی ترقی کے چیلنجز”کے عنوان سے پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی کونصلیٹ کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر ز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔عاصم افتخار نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قبضہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کشمیری عوام کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے، جس نے تعلیم، روزگار، نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور امید جیسے بنیادی انسانی پہلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اہلکاروں کے سائے تلے زندگی گزارنے والے کشمیریوں کے لیے ترقی ایک وعدے کے بجائے ایک فریب بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی حراستیں اور قابض فوجیوں کوحاصل انسانی حقوق کی پامالیوں کی کھلی چھوٹ نے کشمیری معاشرے کے سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے اور خاندانوں کو شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی طرح فلسطینیوں کو بھی طویل قبضے، ظلم و تشدد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث سنگین سماجی و انسانی بحران کا سامناہے ، جس میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے مستقل مندوب اور او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے چیئرمین سفیر احمد یلڈیز نے کہا کہ جموں و کشمیر، فلسطین اور شامی مہاجرین کی صورتحال اس امر کا ثبوت ہے کہ طویل تنازعات سماجی ترقی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل کشمیری عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل مبصر سفیر حمید اجیبائیے اوپیلویرو نے جموں و کشمیر اور فلسطین سمیت دیرینہ تنازعات کے فوری حل، غربت کے خاتمے، خواتین کی معاشی خودمختاری، نوجوانوں کی شمولیت اور مذہبی عدم رواداری کے خاتمے کو امن اور سماجی ترقی کے لیے کلیدی قرار دیا۔آذربائیجان کے مستقل مندوب سفیر توفیق موسییف اورفلسطینی مصنف و صحافی ڈاکٹر عبد الحمید سیام نے کہا کہ جموں و کشمیر اور فلسطین دونوں قبضے اور حقِ خود ارادیت سے محرومی کی زندہ مثالیں ہیں، جہاں حقیقی سماجی ترقی ممکن نہیں رہی۔ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ شدید عسکریت پسندی، عدم تحفظ اور قانونی بے عذابی کے ماحول میں پائیدار سماجی ترقی کا تصور محض ایک خواب ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button