صدر مملکت اور وزیر اعظم کی طرف سے اسلام آبادکی امام بارگاہ میں دھماکے کی مذمت

اسلام آباد :صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے میں کم از کم 31افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوئے ہیں۔صدر آصف علی زرداری نے دھماکے پرمیں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔صدر مملکت نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے کی "مکمل” تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کی "جلد” نشاندہی کریں۔ انہوں نے کہاکہ دھماکے میں ملوث عناصر کو شناخت کے بعد انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔وزیراعظم نے مزید کہاکہ کسی کو بھی ملک میں تشدد اور عدم استحکام پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاہے کہ عبادت گاہوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف ایک گھنائونا جرم اور اسلامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات سے ہمیں خوفزدہ نہیں کیاجاسکتا ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاہے کہ اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں بھارت اور طالبان کا گٹھ جوڑ ملوث ہے۔ مساجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور ملک دونوں کے دشمن ہیں۔ حملے میں ملوث دہشت گرد نے افغانستان سے آئے تھے ۔وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ترلائی امام بارگاہ دھماکے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں وفاقی وزیر نے دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ نمازیوں کو نشانہ بنانا نہایت بزدلانہ، انسانیت سوز اور قابل نفرت فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پمز ہسپتال کا دورہ کیااور دھماکہ میں زخمی ہونے والے افرا دکی عیادت کی۔طلال چوہدری نے دھماکہ کے زخمیوں کیلئے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے بھی ایک بیان دھماکے کی شدید مذمت کی ہے ۔






