مقبوضہ جموں و کشمیر

ڈاکٹر قاسم فکتو جیل میں 33 سال مکمل، قابض بھارتی حکومت کی انتقامی پالیسی بے نقاب

کشمیری حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی مسلسل قید کو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں

سری نگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتونے بھارتی جیل میں اپنی نظربندی کے 33 سال مکمل کر لیے جو بھارت کی کشمیری رہنماؤں کے خلاف انتقامی اور سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں کی ایک بدترین مثال ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ڈاکٹر قاسم فکتو13 نومبر 1967 کو سری نگر کے علاقے زالڈگر میں پیدا ہوئے۔ وہ علمی لحاظ سے ممتاز ہیں اور 2016 میں قید کے دوران اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر فکتومشہور حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے سربراہ اور اپنی قائم کردہ مذہبی تنظیم مسلم دینی محاذ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر قاسم کے قانونی مسائل فروری 1993 میں شروع ہوئے جب انہیں فرضی قتل کے مقدمے میں سیکشن 3 (ٹی اے ڈی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا۔ 1993 میں ضمانت ملنے کے باوجود بھارتی حکام نے 2000 میں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور 2003 میں عمر قید کی سزا سنائی جو بھارت کے جانبدار عدالتی نظام اور قابض عدالتوں کی ناانصافی کی عکاسی ہے۔2016 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انہیں رہائی دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ ان کے بیٹے احمد بن قاسم نے بتایا کہ والد پر قید کے دوران شدید ذہنی و جسمانی دباؤ رہا اور انہیں بھارتی سیاست میں دھکیلنے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ قاسم فکتوکی طرح ہزاروں کشمیری جعلی مقدمات میں بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔
ڈاکٹر فکتواپنی بینائی کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کی L4ـL5 ڈسک کیلئے سرجری کی اشد ضرورت ہے۔ وہ ایروزِو ڈیوڈینائٹس، کرونک گیسٹرائٹس اور آنتوں کی مختلف بیماریوں کے لیے باقاعدگی سے ادویات استعمال کر رہے ہیں، مگر جیل حکام کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں ان کی صحت روز بہ روز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ڈاکٹر محمد قاسم کو جولائی 2001 میں ٹاڈا (TADA)عدالت جموں نے بری کر دیا تھا، لیکن بھارتی حکومت نے انہیں ریلیف دینے کے بجائے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوبارہ گرفتار کر کے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور اعلیٰ عدالت نے انہیں دو دیگر افراد کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی۔
فروری 2008 میں عمر قید کی لازمی مدت پوری ہونے کے بعد بھی ریاستی ریویو بورڈ نے رہائی کی سفارش کی لیکن سیاسی بنیادوں پر جانبدار حکومت نے سفارشات کو مسترد کر دیا۔ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں واحد کیس ہے جہاں عمر قید کے قیدی کے لیے ریویو بورڈ کی سفارش مسترد کی گئی۔احمد بن قاسم نے کہا ہے کہ ”میں نے کبھی اپنے والد کو کھلی فضا میں نہیں دیکھا،” جس سے قیدی اور اس کے اہل خانہ کی کٹھن صورتحال واضح ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فکتو گرفتار ہونے کے دوران تیسرے درجے کے تشدد، بشمول برقی جھٹکے، برداشت کر چکے ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود پر تشویش جاری ہے اور خدشہ ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں دیگر آزادی پسند رہنماؤں کی طرح اذیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔سیاسی ماہرین کے مطابق ڈاکٹر فکتو کی قید انتقامی کارروائی اور نئی دہلی کی سیاسی رنجش کا مظہر ہے۔ حریت رہنماؤں نے ڈاکٹر قاسم کو صبر و استقامت کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”انہیں متواتر بھارتی حکومتوں نے سیاسی انتقام کا شکار بنایا ہے۔”ان کی غیر متزلزل جدوجہد اور علمی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر قاسم فکتو کو اکثر ”کشمیر کا نیلسن مینڈیلا” کہا جاتا ہے۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ بھارت کشمیری قیدیوں کو ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر جیل میں رکھ کر جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، جو مودی کے انتہا پسندانہ ذہنیت کا حقیقی عکس ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button