مقبوضہ جموں و کشمیر

جموں ہوائی اڈے کے قریب بھارتی افواج کے زیر استعمال کیمیائی مواد کا اخراج

جموں :عوامی تحفظ کے حوالے سے بھارت کی مسلسل بے حسی کے ایک خوفناک واقعے میں جموں ایئر پورٹ کے قریب بھارتی افواج کے زیر استعمال کیمیائی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے زہریلے مواد” مسٹرڈ سلفر“کا اخراج ہواہے جس سے مقامی باشندوں کے لئے خطرہ پیدا ہواہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ہوائی اڈے سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ایک مقام پر پیش آیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اخراجمسٹرڈ سلفر پر مشتمل ایک سلنڈر سے ہوا ہے۔ زہریلے مواد کے اخراج نے علاقے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیلا دیا، کئی مقامی لوگوں نے سانس لینے میں تکلیف کی اطلاع دی۔ ایک رہائشی نے بتایاکہ میں نرسری میں کام کر رہا تھا جب میں نے ایک زوردار آواز سنی، جب کہ دوسرے نے اس منظر کو خوفناک قرار دیا۔ بھارت کی نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیموں کے ساتھ مقامی فائر فائٹرز کواخراج پر قابو پانے کے لیے تعینات کیا گیا ۔ این ڈی آر ایف کے ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہصورتحال قابو میں ہے۔ حکام نے اس بات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ ایک کیمیکل وارفیئر ایجنٹ کو شہری علاقے کے اتنے قریب ایک تجارتی دکان میں کیسے ذخیرہ کیا گیا۔سرسوں کی گندھک شدید نقصانات جن میں جلد کی جلن، آنکھوں کی بیماریاں،سانس کی پیچیدگیاں یہاں تک اموات کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معمولی سے اخراج سے بھی صحت پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ واقعہ بھارتمیں ایک پریشان کن رحجان کی عکاسی کرتا ہے جہاں صنعتی حادثات اور کیمیکل لیکس نے شہریوں کو بار بار خطرے میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ سال وشاکھاپٹنم میں ایک پلانٹ میں گیس کے اخراج سے 40 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جبکہ احمد آباد میں 2020 کے ایل پی جی سلنڈر کے رساو¿ سے 12 افراد ہلاک ہوئے۔جموں ہوائی اڈے کے قریب زہریلے مواد کے اخراج سے حفاظتی معیارات کو نافذ کرنے اور اپنی آبادی کوحادثات سے بچانے میں بھارت کی ناکامی واضح ہوتی ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button