بھارت کشمیریوں کی شناخت ، تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہے، حریت کانفرنس
حریت رہنماﺅں کو مسلسل نظر بند رکھ کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ترجمان

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی شناخت ، تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہے اور وہ حریت رہنماﺅں کو مسلسل جیلوں اور عقوبت خانوں میں رکھ کر انہیں بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر ، راجہ معراج الدین کلوال ، پیر سیف اللہ ، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، بلال صدیقی، مولوی بشیر اندرابی، مشتاق الاسلام اور دیگر جھوٹے مقدمات میں مسلسل نظر بند ہیں جس کی وجہ سے انکے اہلخانہ سخت ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ حریت رہنماﺅں ،کارکنوں ، نوجوانوں ، سول سوسائٹی کے کارکنوں ، صحافیوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1947 میںجموںوکشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ جما لیا تھا اور و اس نے علاقے پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے وہاں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کا 5 اگست 2019 کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا غیر قانونی اقدام کشمیر کو نوآبادیاتی بنانے کی جانب ایک اور قدم تھا۔ اس کارروائیوں کے بعد بھارت نے کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک پر قبضے کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ مودی حکومت دراصل مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے ، کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنائیں۔





