ممتا بنر جی کی طرف سے پونے میں بنگالی مزدور کی ماب لنچنگ کی شدید مذمت
بی جے پی اقلیتوں کے خلاف ''زینوفوبیا ''کوبطور ہتھیار استعمال کررہی ہے
کولکتہ:
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مہاراشٹر کے ضلع پونے24سالہ بنگالی مزدور سکھین مہتو کی مبینہ لنچنگ پرشدید غم و غصے کا اظہار کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ممتا بنرجی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس واقعے کو "نفرت انگیز جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص کو صرف بنگالی بولنے کی وجہ سے قتل کیاگیا۔انہوں نے اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ممتابنر جی نے کہاکہ سکھین مہتو اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا جسے زینو فوبیا کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیاگیا۔ایک نوجوان کو اس کی زبان، اس کی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ واقعہ مودی کی بھارتی حکومت اوربی جے پی کی ریاستی حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے نفرت انگیز ماحول کانتیجہ ہے جہاں زینو فوبیا کو بطورہتھیار استعمال کیاجارہاہے اور بے گناہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔وزیراعلی ممتا بنرجی نے مجرموں کی فوری گرفتاری اور سخت ترین سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی کیا۔
واضح رہے کہ مودی کے بھارت میںبنگالی مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کو انتقامی کارروائیوں خصوصا ماب لنچنگ کا نشانہ بنایا جاتاہے اورمسلمانوں کے خلاف زبان، مذہب اور شناخت کی بنیاد پر نفرت انگیز پرتشدد واقعات بڑے پیمانے پر جاری ہیں ۔ہندوتوابی جے پی لیڈر بنگالی بولنے والے بھارتی شہریوں اورمسلمانوں کو کھلے عام درانداز،غیر ملکی اور مشتبہ قرار دیتے ہیں۔








