مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کشمیر کے بارے میں اپنے مذموم ایجڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، حریت کانفرنس

محاصرے ، تلاشی کی کاررئیوں کا سلسلہ جاری، 2کشمیریوں کو15برس قید کی سزا

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت نے کشمیر یوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور وہ علاقے میں اپنے ہندو توا ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا بھارتی حکومت گھروں ، زمینوں اور دیگر جائیدادوں سمیت کشمیریوں سے انکا سب کچھ چھیننے پر تلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل طورپر سلب ہے اور جو کوئی بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے فوری طور پر پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ پورا مقبوضہ علاقہ ایک فوجی چھاﺅنی کا منظر پیش کر رہا ہے اور کشمیری اپنے ہی وطن میں انتہائی مشکلات اور مصائب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اور اس مسئلے کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا کردار اداکرے ۔
دریں اثنا بھارتی فورسز کی طرف سے ڈوڈہ، ادھمپور، کشتواڑ ، کٹھوعہ ، کپواڑہ اور دیگر علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کا بلا جواز سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ گھروں میں گھس کر خواتین ، بچوں اور معمر افراد سمیت مکینوں کو ہراساں اورقیمتی گھریلو اشیاءکی توڑ پھوڑ کرنا قابض بھارتی اہلکاروں کا معمول بن چکا ہے۔
بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی نئی دلی میں قائم ایک خصوصی عدالت نے دو کشمیریوں ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر کو ایک جھوٹے مقدمے میں 15 برس قید کی سزا سنائی ہے۔مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے رہائشی ظہور احمد اور نذیر احمد کو ستمبر 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس وقت حریت رہنماﺅں اورکارکنوں سمیت چار ہزار سے زائد کشمیری جھوٹے مقدمات میں جیلوں اور عقوبت خانوں میںبند ہیں۔
ادھر جموں میں گورنر ہاﺅس تک مارچ کو روکنے کے لئے بھارتی پولیس نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیںکانگریس کے صدر طارق حمید قرہ سمیت متعدد کانگریس رہنماو¿ں اور کارکنوں کو گرفتارکر لیا ہے۔ مارچ کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سمیت کشمیریوں کو درپیش بنیادی مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button