انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کا خواتین حریت رہنماوں اور کارکنوں کی غیر قانونی نظربندی پراظہار تشویش

سرینگر04 دسمبر (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس نے بھارت اور کشمیر کی مختلف جیلوں میں خواتین حریت رہنماو¿ں اور کارکنوں کی غیر قانونی نظربندی پر شدیدتشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکام نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، شازیہ اختر، صائقہ اختر، آسیہ اختر، نسیمہ بیگم، حنا بشیر بیگ، آسیہ بانو، رسکیم اختر، سیبا، انجم یونس، تبسم مقبول اور صائمہ اخترسمیت کشمیری خواتین کو جھوٹے الزامات پر نظربند کررکھاہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر خواتین مختلف امراض میں مبتلا ہیں لیکن جیلوں میں انہیں طبی دیکھ بھال سمیت بنیادی سہولیات سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبرداروںکو اس سنگین مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارتی حکام پر دباو¿ ڈالنا چاہیے کہ وہ ان کو رہا کریں۔محمد احسن اونتو نے کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں کئے گئے غیر قانونی اقدامات کے بعد بھارتی فوجیوں نے کشمیری خواتین، نوجوانوں، طلباءاور بچوں کے خلاف جنگ چھیڑرکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: