مقبوضہ جموں و کشمیر

امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے مقبوضہ جموں وکشمیرکی پھلوں کی صنعت تباہ ہوجائے گی: عمر عبداللہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو یہ خطے کے باغبانی کے شعبے کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کسان میلہ کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی زرعی مصنوعات کی ڈیوٹی فری درآمد مقامی پھلوں کے کاشتکاروں کے لیے براہ راست خطرہ ہے جنہوں نے گزشتہ برسوں میں معیار اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں امریکہ جیسے ممالک سے مقابلہ کرنا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس تجارتی معاہدے کے بعد ان کی زرعی پیداوارخاص طور پر پھل، گری دار میوہ جات، اخروٹ اور بادام جیسے باغبانی کی مصنوعات یہاں آنا شروع ہو جائیںگی اور ہمیں اپنی پیداوار، پیداواری صلاحیت اور معیار کو بہتر بنانا ہو گا۔عمر عبداللہ نے کہاا کہ اس معاہدے سے بہتر معیار کی درآمدات مارکیٹ پر حاوی ہوں گی جبکہ مقامی پیداوار کی اہمیت کم ہو جائے گی۔تمام خراب پھل ہمیں فروخت کیے جائیں گے اور اچھے پھل ان کو فروخت کیے جائیں گے۔ ہمارے کاشتکاروں نے پچھلے کچھ سالوں میں اپنی مصنوعات کو بہتر بنانے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، نئی اقسام سامنے آئی ہیں اور اعلیٰ کوالٹی حاصل کی گئی ہے۔سی اے اسٹورز کے ذریعے ہم صحیح وقت پر بہتر مصنوعات کو مارکیٹ میں پہنچانے کے قابل ہیں۔ اب اگر آپ ہمیں بتائیں کہ اچھی چیزیں باہر سے آئیں گی اوریہاں سے کم قیمت پر چیزیں فروخت ہونی چاہیے تویہ ہمارے کاشتکاروں کے ساتھ ب©ڑا مذاق ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button