بھارت

مصنوعی ذہانت سے متعلق کانفرنس میں چینی ساختہ روبوٹ کی نمائش

بھارت کوعالمی رہنماﺅں کی موجودگی میں سخت خفت کا سامنا

نئی دلی:بھارت میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات پر مبنی پانچ روز ہ اجلاس کو ایک تاریخی اجتماع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاہم یہ اجلاس اپنے ابتداءسے ہی تنازعات کا شکار ہوتا چلا گیا۔اجلاس کے دوران سب سے منفرد تنازعہ ایک روبوٹ کتے پر پیدا ہوا۔ ایک نجی یونیورسٹی کو اس وقت اپنا سٹال خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جب یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی نے ایک چینی ساختہ روبوٹ کتے کو اپنی ایجاد قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق گلگوٹیاز یونیورسٹی، جو دہلی کے قریب گریٹر نوئیڈا میں واقع ہے، نے چار ٹانگوں والا روبوٹ کتا ’اورائن‘ کے نام سے نمائش کے لیے پیش کیا تھا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں یونیورسٹی کی ایک نمائندہ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ یہ روبوٹ یونیورسٹی کے ایک انڈسٹری کولیبریٹو ہب میں ’ڈیولپ‘ کیا گیا ہے۔آن لائن صارفین نے جلد ہی نشاندہی کی کہ یہ روبوٹ دراصل یونٹری کا تیار کردہ ’یونٹری گو ٹو‘ ماڈل ہے، جو ایک کمرشل سطح پر دستیاب روبوٹک کتا ہے اور انڈیا میں تقریباً دو ہزار سے تین ہزار پاو¿نڈ میں فروخت کیا جاتا ہے۔
نجی یونیورٹی نے دراصل درآمد شدہ ہارڈویئر کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جبکہ یہ سمٹ بھارت کی تکنیکی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی ۔ اجلاس کی ایک ویڈیو کلپ میں یونیورسٹی کی ایک سٹاف ممبر کو صحافیوں کو یہ بتاتے ہوئے سنا گیا کہ یہ روبوٹ ’یونیورسٹی کی حقیقی دنیا میں اے آئی کے عملی استعمال پر توجہ‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ گلگوٹیاز یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلینس میں تیار کیا گیا ہے۔ غلط بیانی پر یونیورسٹی کو آج(بدھ) سٹال خالی کرنے کا حکم دیا گیا ۔
سوشل میڈیا پر تنازع سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی نے ایکس پر جاری بیان میں اعتراف کیا کہ روبوٹ کتا یونٹری کمپنی سے خریدا گیا تھا اور اسے طلبہ کے لیے ایک تعلیمی ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
پانچ روزہ اجلاس کا افتتاح پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا ۔ اجلاس میں 20ممالک کے صدر ، وزرائے اعظم اور نائب صدور شرکت کر رہے ہیں تاہم ان اعلیٰ شخصیات کی موجودگی میں جھوٹ ، فراڈ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے بھارت کو سخت خفت اٹھانا پڑ رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button