مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں،حریت کانفرنس

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو انکے گھروں ،زمینوں سے بے دخل کرنا اور غیر مقامی لوگوں کی آبادکاری عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو مکمل طور پر نظرانداز کر رہا ہے اور اس کے بجائے علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اس کے حصے بخرے کیے اور کشمیریوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ،اقوام متحدہ نے کشمیریوںکا حق خود ارادیت تسلیم کر رکھا ہے اور اپنی زیر نگرانی ایک آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے انہیں یہ حق دینے کا وعدہ کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارت کے غیر قانونی اقدامات علاقے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت ہرگز تبدیل نہیں کرسکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری گزشتہ 78 سالوں سے اپنے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بھارت انہیں یہ حق دینے کے بجائے فوجی طاقت کے بل پر انکی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔
ترجمان نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی نسل پرستی کی پالیسیوں نے مقبوضہ علاقے کو جہنم میں بدل دیا ہے تاہم کشمیری بے انتہا بھارتی مظالم کے باوجود شہداءکے عظیم مشن کو عزم وہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اوراس تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں کردار ادا کرے۔







