بھارت

مودی کی حکمرانی میں بھارت سیاسی دہشت گردی کا گڑھ

ہندو اتنظیم کے کارکن کی اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی سمیت 25ارکان پارلیمنٹ کو جان سے مارنے کی دھمکی

نئی دلی:مودی کی حکمرانی میں بھارت سیاسی دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔خود کو مودی کا بھگت قراردینے والے ہندوتوا تنظیم کرنی سینا کے ایک انتہا پسند نے قائد حزب اختلاف اور کانگریس پارٹی کے رہنماء راہل گاندھی اوردیگر 25اکانگریس ارکان پارلیمنٹ کو گھر میں گھس کر گولی مارنے کی دھمکی دی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کرنی سینا ایک راجپوت تنظیم ہے جو بنیادی طور پر راجستھان میں موجود ہے اور اسے "سنگھ پروار کے انتہاپسند دھڑے”کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کسی تنہا فرد کی ہمت یا جذبات کا نتیجہ نہیں، بلکہ بھارت میں سیاسی تشدد کی تاریک تاریخ کا ایک تسلسل ہے، جہاں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا تھا۔ تاہم، مودی حکومت آج تک اس دھمکی پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔رپورٹس کے مطابق آج تک نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی، جس سے مودی حکومت کی طرف سے ہندو انتہا پسندوں کے تشدد کی ممکنہ موش منظوری کی عکاسی ہوتی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں یہ کھلی چھوٹ ایک ایسی حکومت کی نشاندہی کرتی ہے جو نظریاتی بنیادوں پر چلنے والی دہشت گردی کو دن دہاڑے کام کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔مودی انتظامیہ جمہوری اداروں اور سیاسی رہنمائوں کی حفاظت کرنے کی بجائے ایسا ماحول پیدا کر رہی ہے جہاں سیاسی قتل کی دھمکیاں عام ہو چکی ہیں جو تمام مخالف آوازوں کو واضح پیغام دے رہی ہے: مخالفت کرنا خطرناک ہے۔بھارت اپنے ہی قانون سازوں کے خلاف تشدد کی معمول بننے کا مشاہدہ کر رہا ہے، جو مودی دور میں قانون کی حکمرانی، امن و امان اور جمہوری تحفظات کی شدید تباہی کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا کو چوکنا رہنا چاہیے بھارت کا اپوزیشن لیڈر اب بی جے پی بھکتوں کے نشانے پر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button