بھارتی حکام نے بنگالی بولنے والے بچے زبر دستی بنگلہ دیش دھکیل دیے

ٓاسلام آباد :بھارتی ریاست آسام سے بنگالی بولنے والے بچوں کو زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی حکام نے بچوں سمیت درجنوں بڑوں کو غیر قانونی مہاجر ظاہر کر کے بنگلہ دیش کی طرف دھکیل دیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ایک واقعے میں اڑیسہ کے ایک خاندان کے 14 افراد، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے، بھارتی شناختی دستاویزات ہونے کے باوجود گیدے بارڈر کے پار بھیج دیے گئے۔ متاثرہ بچوں کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی شہری ہیں جبکہ ان کے والدین اب بھی بھارت میں حراست میں ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے بھارت میں پیدا ہونے والے بچوں کی بھارتی دستاویزات ان کارروائیوں کے دوران ضبط کر لی گئیں۔ ریاست اڑیسہ کے ضلع جگت پور سے ایک خاندان کے 14افرا جن میں چار بچے (سب سے چھوٹا دو سال کا) اور ایک 90 سالہ خاتون شامل تھیں کو گزشتہ برس 26 دسمبر کو ندیا ضلع کے گیدے بارڈر سے بنگلہ دیش کے درشنا نمتلا علاقے میں دھکیل دیا گیا۔ رشتہ داروں کے مطابق خاندان کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور زمین کے کاغذات موجود تھے جو انکی بھارتی شہریت کا واضح ثبوت ہیں ۔ اس گروہ کا بنگلہ دیش میں کوئی معلوم رشتہ دار نہیں تھا اور تصدیق کا عمل مکمل کیے بغیر انہیں سرحد پار بھیجا گیا۔گزشتہ برس 14مئی کو بھی13 بچوں کو بنگلہ دیش بھیجا گیا۔ بعدازاں 26 جون 2025 کو دہلی کے ایک خاندان کو، جس میں ایک آٹھ سالہ بچہ بھی شامل تھا، ملک سے نکال دیا گیا
انسانی حقوق کی تنظیموںکا کہنا ہے کہ بے دخل کیے گئے بہت سے لوگ بنگالی بولنے والے بھارتی مسلمان ہیں جو کئی دہائیوں سے بھارت میں رہ رہے تھے۔
بھارتی وزارت داخلہ نے ریاستوں کو مہاجرین کی اسناد 30 دن کے اندر چیک کرنے اور بے دخلی کی مزید کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ان اقدامات کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ اور گوہاٹی ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔گوکہ بھارتی حکام کہتے ہیں کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف ہیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کیساتھ ساتھ مقامی حکومتیں،خاص طور پر مغربی بنگال کی حکومت کہتی ہیں کہ بے دخل کیے گئے بہت سے لوگ بنگالی بولنے والے بھارتی مسلمان ہیں جو کئی دہائیوں سے بھارت میں رہ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق بھارتی فورسز اور حکومت کے یہ اقدامات کمزور اور کم عمر بچوں کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رویہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس اقدام میں قانونی عمل کو یکسر نظر انداز کیاجا رہا ہے۔







