بھارت :راجستھان میں مسلمان قیدیوں کو افطار اور سحری کی فراہمی پر پابندی عائد

جے پور: بھارتی ریاست راجستھان میں حکومت نے ایک اور اسلام دشمن اقدام کرتے ہوئے ریاست کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کو افطار اور سحری کا کھانا فراہم کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکومت کے حکم نامے میں کہاگیاہے کہ رمضان المبارک کے لیے تمام اشیائے خوردونوش جیلوں کے اندر مجاز کنزیومر اسٹورز سے خریدی جائیں اورمختلف افراد اور تنظیموں کی جانب سے براہ راست عطیات اور سپلائیز پر پابندی ہوگی۔ اس اقدام کو مسلمان تنظیموں اور کمیونٹی لیڈروں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے روزہ دار قیدیوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور غذائیت پر سمجھوتہ ہوگا۔جمعیت القریش کے نائب صدر الیاس قریشی نے کہا کہ یہ اسلامو فوبیا اور امتیازی سلوک کا واضح معاملہ ہے۔انہوںنے کہاحکومت کا فیصلہ نہ صرف احمقانہ بلکہ غیر انسانی بھی ہے۔ یہ مسلم قیدیوں کو الگ تھلگ کرنے اور دیوار کے ساتھ لگانے کی ایک واضح کوشش ہے۔پابندی سے رمضان کے مقدس مہینے میں قیدیوں کے اپنے مذہب پر عمل پیراہونے اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پروگریسو مسلم الائنس کے صدر عبدالسلام جوہر نے کہا کہ روزہ رکھنے کے لیے مناسب غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت کے اس فیصلے سے مسلمان قیدیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔








