مہاراشٹر میں مسلم کوٹے کی منسوخی ، ہندوتوا نظریہ کومستحکم کرنے کی ایک اور کوشش
اسلام آباد:
فرقہ پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مہاراشٹر کی ریاستی حکومت کے 5فیصد مسلم ملازمتوں اور تعلیمی کوٹے کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کے فیصلے کو ہندوتوا نظریہ کے وسیع تر استحکام کی ایک اور کوشش قرار دیاجارہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 17 اور 18 فروری 2026 کو بی جے پی حکومت کی طرف سے ختم کیاگیا یہ کوٹہ جولائی 2014میں سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ مسلم برادریوں کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم عدالتی رکاوٹوں کے باعث اس پر مکمل طور پرعمل درآمد نہیں ہو سکا تھا ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سماجی و معاشی اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کرنے یا آئینی بنیادوں پر اہم قانون سازی کے بجائے بی جے پی حکومت نے کوٹہ مکمل طور پر ختم کرنے کافیصلہ کیا ہے ، جس سے بی جے پی حکومت کی اقلیتوں کے حوالے سے ترجیحات کی عکاسی ہوتی ہے۔مبصرین کے مطابق اگرچہ یہ کوٹہ عملی طور پر فعال نہیں تھا، تاہم اس کی منسوخی سے اس تاثر کو تقویت ملتا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کو غیر ضروری یا ناپسندیدہ سمجھا جا تا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بی جے پی کے زیر اثر ایک ایسے وسیع نظریاتی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے جس میں شہریت اور قومی شناخت کو اکثریتی مذہبی شناخت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے بھارت کے سیکولر کردار اور آئینی مساوات کے اصولوں کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔







