آپریشن سوئفٹ ریٹائرٹ :ذلت آمیز شکست کی یادیں ہندوتوا بی جے پی حکومت کے ذہن میں تازہ رہیں گی

اسلام آباد:پاک فضائیہ کے ہاتھوں 26 فروری 2019 کو بھارتی فضائیہ کو ہونے والی ذلت آمیز شکست کی یادیں بھارت کی ہندوتوا بی جے پی حکومت کو ایک اہم واقعہ کے طور پر ہمیشہ تازہ رہیں گی، کیونکہ اس واقعے کو سات سال مکمل ہو گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کی رپورٹ کے مطابق اس دن ہندوتوا نظریے سے وابستہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ کے قریب فضائی حملہ کیا۔ اس کے جواب میں پاک فضائیہ نے 24گھنٹے کے اندر 27فروری 2019کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ شروع کیا۔فضائیہ نے یہ آپریشن بھارتی طیاروں کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد کیا گیا۔ پاک فضائیہ نے فضائی جھڑپ کے دوران دو بھارتی طیارے مار گرائے اور ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو گرفتار کرلیا، جسے بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کر دیا گیاتھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے بڈگام میں بھارتی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے۔بھارتی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ بالاکوٹ میں فضائی حملے میں عسکریت پسندوں کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں جنگجو ہلاک ہوئے۔ تاہم پاکستان اور مختلف ملکی و بین الاقوامی مبصرین نے بھارتی دعوئوں کویکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی حکومت کی اس حوالے سے کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ۔بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی مودی حکومت کے موقف پر سوالات اٹھائے ۔کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق فروری 2019 کے واقعات اور فضائی جھڑپوں نے خطے کی سلامتی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے اور بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کو پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔







