بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ فروری میں چھ کشمیریوں کو شہید کیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ فروری میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے 6 کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہید ہونے والوںمیں سے چار کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیاگیا۔ اس دوران بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز ،پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ ایجنسیوں کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) اور ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے علاقے میں 29 شہریوں کو گرفتار کیا جن میں زیادہ تر سیاسی کارکن اور نوجوان تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں کوغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کے تحت نظربند کیا گیاتاکہ اختلاف رائے کو دبایاجائے اوران کی غیر قانونی نظربندی کو طول دیا جاسکے۔یہ شہادتیں اور گرفتاریاں پورے علاقے میں بھارتی فورسزکی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی183 کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران کی گئیں۔ ایک ماہ کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت انتہائی فرقہ پرست اور بدعنوان انتظامیہ نے جو بھارتی وزیر داخلہ کے براہِ راست کنٹرول میں ہے، نوآبادیاتی طرز کے مظالم کو تیز کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں لوگوںکے گھروں اور زمینوں سمیت15 جائیدادوں ضبط کیں۔ یہ غیر قانونی ضبطیاں کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور ان کے سیاسی موقف اورجذبہ آزادی کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
دریں اثنا ءحریت رہنماﺅں، کارکنوں، نوجوانوں، طلباءاور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت 3ہزار سے زائد کشمیری مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیںجن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، شاہدالاسلام، فاروق احمدڈار، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال احمد صدیقی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد حیات بٹ، نور محمد فیاض، ڈاکٹر حمید فیاض، رفیق احمد گنائی اور انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز کے ساتھ ساتھ تین درجن سے زائدخواتین شامل ہیں ، انہیں تحریک آزادی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔






