مقبوضہ جموں و کشمیر

مودی کا دورہ اسرائیل نئی صف بندی کا نتیجہ، ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ

سرینگر: سیاسی مبصرین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل کو بھارت اور اسرائیل کے درمیان نئی صف بندی کا نتیجہ قراردیاہے کیونکہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں اس اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں جو مغربی ایشیا میں غیر جانبدار اور متوازن تعلقات کی بھارت کی روایتی پالیسی کے برعکس ہے۔ انہوں نے خبردارکیاکہ اس طرح کا طرز عمل خطے کو مزید انتشار کا شکار کرسکتا ہے اور بھارت کو پیچیدہ جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ مودی حکومت کی اسرائیل تک رسائی خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناو¿ کے دوران ایک نظریاتی اور تزویراتی صف بندی کو مستحکم کرنے کا اشارہ ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اور سیکورٹی تعاون دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے پر بھی اثرات مرتب کرسکتا ہے اور علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔اپوزیشن انڈین نیشنل کانگریس نے کھلے عام مودی حکومت کے اسرائیل نواز موقف پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے غلط فہمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ کانگریس کے رہنماو¿ں نے خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے، بھارت کے بیان کردہ عالمی موقف اور اس کی اندرونی پالیسیاں خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کی حکمت عملی تضادات کو ظاہرکرتی ہے۔تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ بھارت میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسلم آبادی رہتی ہے اور مسلم مخالف بلاک کی طرف اس کا کوئی بھی جھکاو¿ اندرونی انتشارکو بڑھا سکتا ہے اور سماجی اور سیاسی بدامنی کو ہوا دے سکتا ہے۔ انہوں نے خبردارکیاکہ خارجہ پالیسی کے فیصلے ادارہ جاتی اتفاق رائے کے بجائے ذاتی سفارت کاری کے ذریعے کرنے سے عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی نئی صف بندی سے ایران اور باقی عالم اسلام کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے اس کی علاقائی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے اپنے تاریخی غیروابستہ موقف کو ترک کرنے کے طویل مدتی سفارتی اور اقتصادی نتائج ہو سکتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور بھارت کی موجودہ سفارتی پوزیشن کا محتاط جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ علاقائی طاقتوں کی دشمنیاں بڑھ رہی ہیں اور عالمی صف بندیاں بدستور تبدیل ہو رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button