سرینگر : بھارتی انتظامیہ نے آج مسلسل دوسرے ہفتے جامع مسجد سیل کر دی
کشمیریوں کومسلسل ساتویں برس جامع مسجد میں ” جمعہ الوداع“ کی نماز ادا نہیں کر نے دی گئی، میر واعظ

سری نگر:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا کے ماتحت انتظامیہ نے آج مسلسل دوسرے ہفتے بھی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں جمعہ الوداع کی نماز اداکرنے سے روک دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ نے مسجد کی طرف جانے والے تمام راستے خار دار تاروں سے سیل کردیے اور اسکے دروازوں پر تالے لگا دیے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے علاقے نوہٹہ میں واقع عظیم الشان مسجد کو جمعہ الوداع کے موقع پر نماز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ نے ” ایکس“ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آج مسلسل ساتویں برس جامع مسجد کو جمعتہ الوداع کے موقع پر سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو اس میںنماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح اسرائیل نے رمضان المبارک کے دوران مسجد الاقصیٰ کے دروازے بند کر رکھے ہیں، اسی طرح کی دردناک صورتحال سری نگر میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ وہ حکام سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کشمیر یوں کی مذہبی شناخت کے اس سب سے اہم مرکز کو بار بار کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کا مذہبی حق کیوں سلب کیا جا رہا ہے۔میر واعظ نے کہا کہ اس سب نے مقبوضہ علاقے میں حالات معمول پر آنے کے بلند بانگ بھارتی دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے۔۔






